ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
لئے آیا ہے کیا وہ آپ کا واقعی داماد ہے ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ واقعی میرا داماد ہے اس کی رعایت کیجئے چنانچہ وہ نوکر ہوگئے ۔ مگر یہ خبر نہ ہوئی کہ تارر دیا ہے اور اس کا جواب آیا ہے بعد میں ان کو یہ خبر ہوئی تو وہ اس شخص کے پاس آئے اور کہا مجھ سے بڑی گستاخی ہوئی معاف کردیجئے اس شخص نے بہت دلجوئی کی اور کہا کہ داماد کے یہی معنی نہیں کہ میری پہلے سے کوئی بیٹی ہو اور میں تم کو دیدوں ۔ بلک ایک صورت یہ بھی ہے کہ جو تمہارے گھر میں سے ہے اس کو اپنی بیٹی سمجھ لو ں اگر یہ شخص دینیات میں دخل نہ دیتا تو کام کا شخص تھا ۔ مگر برا کیا کہ دینیات میں دخیل ہوا یہ کیا جانے تفسیر کو ۔ ،، حافظ محمد امیر صاحب تھانوی سے میں نے سنا ہے کہ اس کی تحصیل مقامات حریری ،، اور مختصرالمعانی تک ہے ایسا شخص تفسیر لکھنے لگے تو حماقت نہیں اور کیا ہے ۔ ذہین ضرور تھا مگر طبعیت میں کجی تھی ۔ آیت میں ہے ،، ان تتبعون الا رجلا مسحورا ۔ یعنی کافر حضور گو کبھی ساحر اور کبھی مسحور کہتے تھے ۔ اس شخص کی کجی دیکھئے ۔ چونکہ اس کا مذہب اہل یورپ کی سائنس تھی اور اہل یورپ سحر کے قائل نہیں ہیں اور اسی بناء پر اس شخص کا عقیدہ ہے کہ جس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر ہونا ثابت ہے وہ غلط ہے تو اس کا غلط ہونا اس شخص نے اس آیت سے ثابت کیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں نظر کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن اس شخص پر کفر کا فتوٰٰی دیتا ہوں جو حضور کو مسحور کہے اور بخاری شریف وغیرہ میں جو مذکور ہے کہ آپ پر سحر کیا گیا تھا اور اس کا اثر آپ پر ہوا اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ جو روایت درایت کے خلاف ہو وہ مقبول نہیں دیکھئے آیت کو کتنا الٹا سمجھا ہے جس کا جواب بالکل سیدھا ہے ۔ ،، ان تتبعون الا رجلا مسحورا سے اثبات مسحوریت کا موجب کفر ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ بلک ان کا مقصود کرنا مسحوریت میں اس طرح سے کہ نبوت منفی ہو ۔ پس یہ انکار نبوت موجب کفر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم بطریق نبوت فرماتے تھے وہ لوگ اس کے منکر تھے اور آپ کو ان دعوؤں میں مسحور کہتے ہیں جو کوئی نبوت کا منکر ہو واقعی کافر ہے ۔ مگر جہلا ایسے لغو استدلال کو سن کہتے ہیں کہ کیا اچھی بات کہی ہے مگر اہل باطل ایسی ہی گھڑا کرتے ہیں ۔ ارشاد: اکثر لوگوں کے عقائد بدعات میں بہت خراب ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ان کے عقیدہ میں یہ جما ہوا ہے ۔ کہ بزرگ لوگ اللہ میاں صاحب کے کام میں سہارا لگاتے ہیں ۔ ایک تعزیہ میں عرضی اولاد کے بارہ میں لٹکی ہوئی تھی کہ اے امام حسین مجھ کو لڑکا دیدیجئے اور اس کے ساتھ ایک پتلا