ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
فائدہ : قاضی شریح یہ حضرت عمر کے انتخاب سے قاضی ہوئے تھے ۔ حضرت عمر میں مردم شناسی کا مادہ اعلی درجہ کا تھا ۔ قاضی شریح کی ذکاوت دیکھئے ۔ ایک دفعہ کا قصہ ہے ایک شخص نے دوسرے شخص پر دعوٰٰی کیا کہ میں نے اس شخص کو مبلغ ایک ہزار روپیہ فلاں جگہ امانتا سپرد کئے تھے اب یہ مکرتا ہے اور انکار کرتا ہے ۔ قاضی صاحب نے اس سے پوچھا اس نے کہا کہ جھوٹ ہے مدعی سے کہا کہ اس جگہ کو ہاتھ تو لگا آؤ ۔ وہ چلا گیا اور مدعا علیہ کود ہیں بٹھالیا ۔ تھوڑی دیر میں اچانک اس سے پوچھا کہ ابھی تو وہ اس جگہ نہ پہنچا ہوگا تو وہ کہتا ہے کہ جی ابھی نہیں یہ سن کر قاضی شریح نے مدعا علیہ سے کہا کہ تم کیا جانو اس جگہ کو جب تم معاملہ سے منکر ہو اور جب تم کو وہ جگہ معلوم ہے تو ضرور تمہارے ساتھ روپیہ کا معاملہ ہوا ہے جس کا تم انکار کرتے ہو ۔ سچ بتاؤ کیا بات ہے آخر مدعا علیہ نے اقرار کرلیا اور آپ نے اس پر ڈگری کردی ۔ ارشاد : مولوی غلام محمد صاحب راندیری مرحوم کہتے ہیں کہ دیور کا لفظ ہمارے یہاں مستعمل ہے بہت برا ہے ورہندی میں کہتے ہیں شوہر کو اور دے کے معنی ثانی پس دیور کے معنی ہوئے شوہر ثانی بعض جہلا ء کے یہاں دیور کو بجائے شوہر کے سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ لفظ قابل تبدیل ہے ۔ اسی طرح مجھے سالہ کا لفظ بھی برا معلوم ہوتا ہے پورب میں نسبتی بھائی کہتے ہیں یہ اچھا لفظ ہے ۔ جوائیں میں مکر وہ لفظ ہے خویش اچھا لفظ ہے ۔ داماد بھی ثقیل ہے بعض الفاظ میں کہ لغوی معنی ان کے بہت اچھے اور ہمارے یہاں ان کا استعمال بھی قبیح نہیں مگر بعض جگہ وہ محاورہ میں برے سمجھے جاتے ہیں ۔ جیسے مخدومہ کا لفظ کہ اس میں کوئی برائی نہیں پورب میں اس کو نہایت برا سمھتے ہیں یعنی بمعنے ،، مفعولہ ،، ۔ بعض لفظ غیر فعل میں بولا جانے سے بہت برا ہوجاتا ہے ۔ جیسے ایک شخص کے لڑکے کا انتقال ہوگیا تھا کسی نے کہا کہ خدا اس کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ ایک صاحب سن رہے تھے انہوں نے دل میں کہا کہ مرنے کے موقعہ پر یہ لفظ کہا کرتے ہیں ۔ اتفاق سے ایک شخص کے باپ کا انتقال ہوگیا ۔ اور وہ تعزیت کو آئے تو کہتے ہیں کہ خدا نعم البدل عطا فرمائے ۔ اس نے بڑا برا مانا کہ میری ماں کو خصم کراتا ہے ۔ داماد پر ایک قصہ بانی کے ذی حوصلہ ہونے یاد آیا یہ شخص تھا تو ذی حوصلہ اور کام کا آدمی اگر دین میں دخل نہ دیتا اور دین کو نہ بگاڑتا ) ۔ ایک شخص کسی حاکم کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں فلاں شخص کا داماد ہوں نوکری کے لیے آیا ہوں ۔ صاحب نے بڑی دقعت کی مگر خفیہ اس شخص کو تاردیا کہ فلاں شخص میرے پاس نوکری کے