ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
ہوتا ہے صاحب معانی کا اور صاحب معانی محتاج نہیں ہوتا صاحب الفاظ کا ۔ پس حضرت حاجی صاحب صاحب معانی ہیں ۔ اور ہم صاحب الفاظ اس لئے ہم ان کے محتاج ہوئے ۔ اور چونکہ وہ اہل حقائق سے ہیں ان کو لابشرط شے میں اور بشرط لاشئے میں ہماری ضرورت نہیں اسی طرح ایک علم ہمارا ہے اور ایک علم مجتہدین کا جو ہم کو نصیب ہی نہیں ہے ۔
یہ بھی ایک مثال سے سمجھ میں آئے گا وہ یہ کہ ایک تو قوت ابصار ہے اور ایک مبصرات ہیں ۔ تو فرض کیجئے کہ ایک شخص کانپور سے کبھی نہیں نکلا اور زیادہ چیزوں کو نہیں دیکھا مگر نگاہ اس کی نہایت تیز ہے کہ جس چیز کو دیکتھا ہے اس کی پوری حقیقت سمجھ لیتا ہے گو مبصرات اس کے کم ہیں ۔
اور ایک شخص وہ ہے جو تمام کلکتہ اور بمبئی پھرا ہوا ہے اور بہت سی چیزیں دیکھیں مگر ہے چوندھا اس کے مبصرات زیادہ ہیں گو ابصار کم ہے تو ظاہر ہے کہ یہ صاحب مبصرات صاحب ابصار سے افضل نہیں ہوسکتا ہے بس علم حقیقی ادراک کا نام ہے مدرکات کا نام نہیں ۔ علم کی تفسیر ادراک ہے نہ کہ مدرکات پس مجہتدین میں ادراک زیادہ تھا وہ اس میں بڑھے ہوئے تھے اگرچہ کسی کے مدرکات ان سے بڑھ جائیں گو جو چیز ان کے پاس تھی وہ اس شخص کے پاس نہیں ہے ع
،، نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند ،،
مجھ سے تارک تقلید کہنے لگے کہ کیا اجتہاد کی قوت ہم میں نہیں میں نے کہا کہ ایک مسئلہ میں امتحان کرتا ہوں نمونے کے طور پردوہ شخص جنگل میں ہیں تمام صفات علم وعمل میں برابر ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ ایک تو غسل کی حاجت ہے اور دوسرے کو وضوء کی ۔ اور پانی نہ ہونے کے سبب تیمم دونوں نے کیا اب یہ بتلائیے کہ امامت کس کی افضل ہے اس نے کہا کہ وضو والے کی امامت افضل ہے کیونکہ وضو وضو والے کی طہارت قوی ہے ۔ غسل والے کی طہارت سے اس لئے کہ اس کا حدیث کم ہے اور غسل والے کا زیادہ ہے اور طہارت دونوں کو برابر حاصل ہوئی ۔ میں نے کہا بس یہی ہے آپ کا اجتہاد ۔ اب فقہاء مجتہدین کا اجتہاد دیکھئے وہ کہتے ہیں کہ غسل والے کی امامت افضل ہے ۔
وجہ یہ ہے کہ تیمم نائب ہوتا ہے وضو اور غسل کا ۔ اور غسل افضل ہے وضو سے اور نائب افضل کا افضل ہوتا ہے لہذا غسل کے تیمم کی طہارت کامل ہوئی وضو کے تیمم سے اس لئے اس کی امامت افضل ہوگی یہ ہے فقہاء کا اجتہاد اس کو ذرا اپنے اجہتاد سے مقابلہ کرکے دیکھو اس نے کہا کہ آج مجھے معلوم ہوا کہ ہم میں قوت اجہتاد یہ کچھ بھی نہیں ۔