ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
اور میں کہتا ہوں کہ اس کا ایک امتحان بہت آسان ہے وہ یہ کہ بیس مسائل ایسے شخص کودیئے جائیں جس کی نظر قرآن وحدیث پر پوری ہو مگر اس نے ان کا جواب کتب فقہ میں نہ دیکھا ہو اور وہ ان مسائل کو قرآن وحدیث سے مستنبط کرے ۔ پھر فقہ میں انکا جواب نکال کر دیکھے اور ذوق وانصاف سے یہ دیکھ لے کہ کون سے جواب اقرب معلوم ہوتے ہیں حضرت بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک مسئلہ ڈھونڈا ۔ اور نہیں ملا ۔ ہم نے قیاس کیا کہ یوں ہونا چاہیے پھر جب مل گیا تو اپنا جواب بالکل ہیچ معلوم ہوتا تھا ۔ ایک لطیفہ یا د آیا ۔ سنیئے ! ایک غیر ملقد نے میرے پاس لکھا تھا کہ کیا آپ مجھے طریق اصلاح کی تعلیم وتلقین کرسکتے ہیں اور میری غیر مقلدی اس سے مانع تونہ ہوگی میں نے لکھا کہ مانع تونہ ہوگی بشرطیکہ تم میں اور مجھ میں مناسبت ہوجائے گی ۔ مگر پہلے یہ بتلائیے کہ اس طریقہ میں آپ میری بھی تقلید کریں کے یا نہیں اس کا جواب ان سے نہیں بن پڑا ۔ حالانکہ بالکل ظاہر تھا ۔ جواب میں اور باتیں لکھیں مگر اس سے تعرض نہیں کیا ۔ واقعہ : ایک صاحب نے پوچھا کہ مولوی اسمعیل شہید کے کلام میں جو شفاعت وجاہت کو رد کیا ہے اس وجاہت کا کیا مطلب ہے ارشاد : وجاہت کے درجات مختلف ہیں ایک وجاہت حقیقی ہے یعنی دباؤ سو خدا تعالٰی کے یہاں یہ وجاہت کسی کی نہیں کیونکہ یہ انفعال ہے ۔ جیسے بعض وقت وزراء کی سفارش پر بادشاہ کو خیال ہوجاتا ہے کہ اگر منظور نہ کروں گا تو شاید اس کو ناخوشی ہو اور اس سے انتظام سلطنت میں خلل پڑجائے اور ایک وجاہت مجازی ہے وہ یہ کہ خدا تعالٰی کے یہاں کسی کی مقبولیت ہوجائے اور وہ اس کی سفارش قبول کرلیں جیسے بچہ پیارا ہوتا ہے ۔ باپ کا اور باپ اس کی سفارش کو مان لے یہ نہیں کہ بچہ کا کچھ دباؤ ہے اس لیے کہنا مان لیا ۔ پس خدا کے یہاں کسی کی وجاہت حقیقیہ تو نہیں مجاز یہ ہے اب یہ اعتراض جاتا رہا کہ قرآن شریف سے تو وجاہت ثابت ہوتی ہے چنانچہ ارشاد ہے وکان عند اللہ وجیھا اور مولانا کے کلام سے اس کی نفی نکلتی ہے سو مولانا کے کلام میں نفی وجاہت حقیقی کی ہے مجازی کی نہیں ہے فقط ۔ واقعہ : بعض لوگ جو مکان وغیرہ کی نحوست کے قائل ہیں اس کا ذکر ہورہا تھا اس پر فرمایا : ارشاد : مکان وغیرہ میں نحوست کچھ نہیں بعضے لکھے پڑھے لوگ بھی اس خیال میں گمراہ ہوجاتے