ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
نے جس ذوق کا متقدین میں اثبات کیا ہے یہ وہی ذوق ہے جس پر اجہتاد کا اخیر مدار ہے اور یہ بات بات بھی طالب علموں کے بڑے کام کی ہے گو یہ لوگ اس کا انکار بھی کرتے ہیں میں ان حضرات کے سامنے اس کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں ۔
وہ نظیر یہ ہے کہ ارشاد فرمایا رسول ﷺ نے لایبولن احدکم فی الماءالراکد کہ پشاب نہ کرنا چاہیئے ٹھہرے ہوئے پانی میں اتنا تو منصوص ہے اب یہ کہ اگر اس میں پیشاب نہ کرے بلکہ پیشاب کرکے اس میں ڈالدے تو اس کا کیا حکم ہے سو یہاں دوفرقے ہیں ایک تو بالکل لفظ پرست ہیں ذوق سے کام نہیں لیتے گو معذور وہ بھی ہیں مگر مصیب نہیں جیسے داؤد ظاہری وہ کہتے ہیں کہتے کہ نص کے ہوتے ہوئے عقل سے کام لینا اس میں مزاحمت ہے احکام کی سو وہ احکام حق تعالیٰ میں بالکل فانی ہیں کہ پانی کے اندر پیشاب کرکے ڈالدو تو وہ اس کو جائز کہتے ہیں ۔ کیونکہ پیشاب کرنا اس پر صادق نہیں آتا ۔ اور آپ نے یہی فرمایا ہے کہ اس میں پیشاب کرو مت یہ نہیں فرمایا کہ کرکے ڈالو بھی مت پس اس کی ممانعت ہوگی ۔ اور جو شخص اس کی علت تلاش کرتا ہے کہ آخر ممانعت کی علت کیا ہے ۔ سو وہ کہتے ہیں کہ علت نکالنا ہی کیا ضرور ہے ہمارا مذہب یہ ہے شعر
زباں تازہ کردن باقر ار تو ٭ نگیختن علت ازکار تو
سو ایک فرقہ تو یہ ہے دوسرا فرقہ تمام مجتہدین کا ہے جو کہتے ہیں کہ نہ پیشاب کرنا چائز ۔ نہ کرکے ڈالنا جائز دونوں برابر ہیں اور علت اس کی تنظیف بتلاتے ہیں مگر ان جمہور کے پاس دلیل اس کی سوائے ذوق اور کچھ بھی ہے ۔ بس ذوق کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نظافت قائم رکھنے کو فرما رہے ہیں جس میں دونوں امر برابر ہیں ۔ غرض ذوق ہی ایک چیز ہے لوگ تو الفاظ کے خادم ہیں مگر علم یہی چیز ہے ۔
مجھ سے ایک عامی شخص نے حضرت حاجی صاحب کی حیات میں پوچھا تھا کہ حضرت کچھ زیادہ لکھے پڑھے بھی نہیں ۔ کیونکہ آپ نے صرف کافیہ تک پڑھا تھا اور تھوڑی سی مشکوۃ شریف پڑھی تھی پھر کون سی چیز ان میں ایسی ہے کہ جس کے لیے بڑے بڑے علماء وہاں جاتے ہیں ان کو کس چیز کی حاجت ہے میں نے کہا کہ ایک مثال سے آپ کی سمجھ میں آئےگا ۔ وہ یہ کہ ایک شخص کو تو لڈو کا صرف نام یاد ہے مگر کبھی کھایا نہیں اور ایک شخص کو نام تو معلوم نہیں مگر وہ کھارہا ہے تو ظاہر ہے کہ پہلا شخص تو دوسرے کا محتاج ہے اور دوسرا شخص پہلے کا محتاج نہیں کیونکہ صاحب الفاظ محتاج