ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
انکار ہی کر بیٹھتے ہیں ۔ لیکن ہم بادب یہ ہی کہیں گے کہ برا ماننے کی بات نہیں تمہیں ذوق نہیں ہے تم انکار مت کر و جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذوق دیا ہے وہ سمجھتے ہیں اور اکثر ان حضرات کے پاس رہنے سے ذوق نصیب ہوجاتا ہے ۔ اور ذوق وہ چیز ہے کہ اصل علم اسی ذوق ہی کا نام ہے ۔ تحقیق اس کی یہ ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں نظریات اور بدیہیات اور منتہی نظریات کا بدیہیات کی طرف ہوتا ہے اور بدیہیات کا منتہی ذوق ہے لہذا سب علوم کا مدار ذوق ہی ہوا ۔ اسی لیے مناظرہ بھی بدیہیات ہی پر منتہی ہوتا ہے ۔ بدیہی کے ہاں بدیہی ہونے میں خلاف ہوجائے وہ اور بات ہے کہ ایک کہتا ہے کہ یہ بدیہی ہے دوسرا کہتا ہے کہ بدیہی نہیں ہے اور چونکہ بدیہیات کو بجز ذوق کے کسی طریق سے ثابت کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے بدیہیات میں کوئی کسی کو منوا نہیں سکتا چنانچہ لوگوں نے ایسے ایسے بدیہیات سے انکار کیا ہے کہ خدا تعالٰٰی کے علم تک کا انکار کیا ہے حالانکہ موٹی بات ہے کہ بدون علم کے قدرت کا تعلق کسی چیز سے نہیں ہوسکتا اور قدرت کا وجود آثار سے بالکل ظاہر ہے تو باوجویکہ ایسی ظاہر بات تھی ۔ مگر ساری دنیا کے عقلاء سرمار کر بیٹھ رہے ۔ مگر منکروں سے منوانہ سکے اور جیسے بدیہی کو غیر بدیہی سمجھنے میں غلطی کی جاتی ہے اسی طرح اس کا عکس بھی ہوتا ہے ۔ چنانچہ بعض امور کو عادت میں ہونے کی وجہ سے بعض لوگ بدیہی سمجھ گئےمگر اہل حق کے نزدیک اس کی ہدایت ایک بداہت وہمی ہے جو مشابہ بدیہی کے ہوتی ہے ۔ غرض ایک شخص ایک شے بدہہی حقیقی کہتا ہے اور دوسرا کہتا ہے مشابہ ہے بدیہی کے اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ حسی تک میں لوگ غلطی کرتے ہیں ۔ چنانچہ ایک شخص کہتا ہے کہ ساری چیزیں الٹی نظر آتی ہیں ایسا بھی ایک فرقہ ہے جب حسیات میں اختلاف ہے تو امور حسیات سے نہیں ان میں کیوں نہ اختلاف ہوگا جب یہ حالت ہے تو یہاں اب دستگیری کی ضرورت ہے جو کہ ظاہری ذوق کے ساتھ باطنی ذوق بھی رکھتا ہو یہی راز ہے اس کا کہ مبصری کی تقلید کی ضرورت ہے بعض موقعہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں وقت اور غموض ہے اور اس میں ایک حدیث ہے مگر اس کے متعلق دواماموں میں اختلاف ہے ایک ایک مجمل پر محمول کرتا ہے اور دوسرا دوسرے پر تو یہاں تو دوہی صورتیں عمل کی ہوسکتی ہیں یا ذوق یا تقلید اہل ذوق ۔ چنانچہ متقدین میں ذوق تھا غرضی پرستی نہ تھی اس لیے جس محمل پر جس نے محمول کرلیا اوہ اس میں معذور ہے اور ہم نہ وہ ذوق صحیح نہ وہ تدین اس لئے بجز تقلید کے کوئی چارہ کار نہیں ۔ اور مین