ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
ایک رئیس صاحب علی الاعلان کہتے تھے کہ جس رئیس کے ذمہ قرض نہ ہو وہ رئیس ہی نہیں ہے ۔ یہی تو رونق کی بات ہے کہ کوئی ادھر سے آرہا ہے تقاضے کو اور کوئی ادھر سے اس میں رونق رہتی ہے ورنہ یہ کیا کہ الو سے بیٹھے رہو ۔ ( پھر حضرت والا نے یہ آیت پڑھی : افمن زین لھ سوء عملھ فراۃ حسنا ۔ یہ ہے ہماری حالت ۔ بس حس نہیں رہی برائی میں بھلائی نظر آتی ہے ۔ فقط ۔ ارشاد : دنیاداروں کا اعتقاد بالکل خیالی ہے اس کی ایک مثال حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دنیاداروں کا یہ اعتقاد ایسا ہے جیسے گدھے کی فلاں چیز ۔ بڑھتا ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور جو گھٹتا ہے تو گھٹتا ہی چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ نرو مادہ میں بھی امتیاز نہیں رہتا ۔ اس کے بعد حضرت نے والا نے فرمایا ہم نے اپنے اکابر کو نہیں دیکھا کہ وہ امراء کے ملنے سے خوش ہوتے ہوں بلکہ منقبض ہوتے تھے ۔ آجکل علماء کی یہ حالت ہے کہ امراء میں گھستے ہیں ، دوڑ ، دوڑ کر جاتے ہیں جہاں کوئی بیمار ہوا عیادت کو دوڑے کہیں ختم پڑھواتے ہیں ۔ غرض ان کے خوشامدی بنتے ہیں حضرت مولانا رائے پوری فرمایا کرتے تھے کہ جو امیر خود رجوع ہو اس سے اخلاق سے پیش آئے ۔ اور جو خود رجوع نہ کرے اس کی طرف نہ دوڑے ۔ نعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ کہ اگر کوئی امیر ان کے پاس آئے تو اس سے روکھا پن برتنے ہیں ۔ حضرت حاجی صاحب اس کو پسند نہ فرماتے تھے کہ یہ تکبر کی بات ہے ۔ فرماتے تھے کہ جب وہ تمہارے پاس آیا تو وہ نعم الا میر علی باب الفقیر میں داخل ہوگیا ۔ اس کے امیر ہونے کی تعظیم ہے وہ تمہارے طرف متوجہ ہوا تو اس کی قدر کرو ۔ فقط ۔ ارشاد : بعض جہلاء کا خیال ہے کہ کوئی مرتبہ ایسا بھی ہے کہ جب انسان اس پر پہنچ جاتا ہے تو گناہ گناہ نہیں رہتا اور اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو اہل بدر کے بارہ میں ہے ۔ اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم شیخ اکبر محی الدین عربی نے اس کا رد کیا ہے فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں غفرلکم فرمایا ابسحت لکم نہیں فرمایا مطلب یہ ہے کہ گناہ گناہ تو رہے گا مگر محبوبیت کی وجہ سے معاف کردیں یہ دوسری بات ہے ۔ شیخ بہت بڑے شخص ہیں سب ان کو مانتے ہیں ۔ وہ محدث بھی ہیں ۔ فقط ۔