ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
تو بہت عذر کیا ۔ اس پرانہوں نے تو مواخذہ نہیں کیا ( کہ ایسا کیوں ہوا )
مگر خیال کیجئے کیسی بے لطفی ہوئی ۔ اسی طرح ایک دوسری شادی میں ایک غریب بھی کھانے سے رہ گیا تھا ۔ اس تقریب میں ان کی ( یعنی جن کے یہاں شادی تھی ) بڑی بدنامی ہوئی ۔ تقریبات میں بہت سی بہت سی اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں مگر لوگوں کو مزہ آتا ہے ۔ اپنے جی کو یوں سمجھا رکھا ہے کہ تقریبات میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔ یہ محض ایک شیطانی تاویل ہے ۔
یہاں ایک بارات آئی تھی اس میں بیلوں کو تو گھی وغیرہ دیا ہی گیا تھا ۔ ایک شخص تھے جن کے پاس گھوڑا تھا ۔ انہوں نے اپنے گھوڑے کیلئے گھی اور چینی لیا ۔ اور کہا کہ میرا گھوڑا گھی اور چینی کھاتا ہے ۔ اسی طرح آج کل تقریبات میں سب ہی کچھ وقتیں اٹھاتیں ہیں ۔ مال جدا ضائع ہوتا ہے جان الگ ہلاک ہوتی ہے ۔ شادی بربادی ہے لوگ الگ نخرے کرتے ہیں مگر پھر بھی لوگ نہیں سمجھتے اور پریشانیوں میں بلکہ ذلت تک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کو رونق سمجھتے ہیں
بات یہ ہے کہ حس نہیں رہا ۔ اس لئے ذلت کو بھی عزت سمجھتے ہیں اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک فارس کے دیہاتی ہندوستان میں آئے تھے حلوائی کے یہاں حلوہ رکھا دیکھا ۔ طبیعت بہت للچائی مگر پاس کچھ تھا نہیں آپ نے کیا کیا کہ ہاتھ مار کر بھاگے حلوائی نے جاکر پکڑلیا آپ نے کیا کیا کہ سارا حلوہ ایک دم سے منہ میں رکھ گئے اور کہا کہ جاؤ نہ تمہارا نہ ہمارا ۔ حلوائی کو تو ملا ہی نہیں اس لئے اس کا نہ ہوا ۔ اور چونکہ اطمینان سے نہ کھایا اس لئے اس لیے حظ نہ آیا ۔ اس واسطے اپنا واسطے اپنا بھی نہ ہوا ۔
حلوائی نے پولیس میں رپٹ کرادی کو توال نے دیکھا اس کا چالان کہاں کیا جائے یہیں ایک سزا تجویز کردی وہ یہ کہ لڑکوں کو بلا کر کہا کہ ایک گدھا پکڑلاؤ ۔ غرض گدھا لایا گیا ۔ اس پران کو سوار کیا اور لڑکے ان کے پیچھے تالیاں بجاتے اور ڈگڈگی بجاتے شہر کے اندر پھرا کر شہر کے باہر نکال آئے ۔ جب آغا اپنے ملک میں پہنچے تو وہاں لوگوں نے معلوم کیا کہ :
،، آغا ہندوستان رفتہ بودی ہندوستان رابچہ طور یافتی ،، ۔ آپ فرماتے :
،، حلوہ خوردن مفت است ۔ سواری خرمفت است فوج طفلان مفت است ، ڈمڈم مفت ۔ ہندوستان خوب ملک است ۔ بس جیسے وہ دیہاتی اس حالت میں خوش تھا ۔ ایسے ہی دنیا داروں کی حالت ہے کہ اسباب پریشانی کو اسباب راحت سمجھتے ہیں ۔