ملفوظات حکیم الامت جلد 19 - یونیکوڈ |
|
آیا کرے اور روزہ کے وقت شربت ٹھنڈا کرکے ان کو پلایا جائے حضرت نے اس کو گوار نہیں کیا ۔ اور اس کے متعلق فرمایا ۔ ارشاد : ان کی رائے برف کی تھی ۔ مگر مجھے اس طرح سے ان کے مال کا برباد کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا ۔ پھر یہ کہ یہ صورت اطمینان کی صورت نہیں برف میں ایک ہلڑ مچتا ہے کہ جلدی جلدی توڑو اور جلدی جلدی پلاؤ ۔ یہ ایک طومار ہے جس کام میں مشغول زیادہ ہو وہ اچھا نہیں معلوم ہوتا ۔ کہیں برف کے گلنے کا خیال ۔ کہیں اس کا خیال کہ ٹھیک وقت پر کھولا جائے اور مسلمان کا بڑا سرمایہ اطمینان قلب ہے ۔ ( بطور ظرافت فرمایا ) اس لئے برف سے پہلے تو یہ گھلے گا ( مطلب یہ کہ اسی فکر میں رہیں گے کہ کہیں برف نہ گھل جائے ۔ اسی طرح پلاتے وقت فکر ہوگی کہ جلدی جلدی پلائیں کہیں ضائع نہ ہوجائے ۔ ادھر پینے والوں کو کوشش ہوگی کہ ہر شخص چاہے گا کہ میں جلدی پی لوں کبھی برف نہ رہے ) جو کام سکون کے ساتھ ہوا اپنے قابو کا ہو وہ ٹھیک ہے ۔ ہاں رونق کی صورت تو یہ تھی ضرور کہ ایک دیگ شربت کی گھول دی جاتی اور سب پی لیتے مگر اس میں ہلڑ بہت ہوتا ہے بس میں نے یہ تجویز کیا کہ جس دن شربت پلانا ہوا شکر بانٹ دی جائے خود شربت کریں اور پئیں ۔ اور شربت کی دیگ رکھنے میں یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی تو چار چار کٹورے پی جاتا ہے اور کسی کو ملتا بھی نہیں ۔ اور شکر دینے میں یہ بھی اختیار ہوگا کہ جس کا جی چاہے شربت پئیں اور جس کا جی چاہے دودھ میں استعمال کریں ۔ بس کام وہی اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جو اپنے قابو کا ہوجا ہے اس میں رونق نہ ہو ۔ تقریبات میں لوگ پریشانی کو پسند کرتے ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ رونق خوب ہوتی ہے ۔ رونق پریشانی کے ساتھ ہوتی ہے اور جس کام میں سکون ہوگا اس میں رونق نہ ہوگی اور اس ہئیت میں ( کہ دیگ میں شربت کیا جائے ) حرص بھی بڑھتی ہے ۔ بے اطمینانی ہوجاتی ہے ۔ ہر شخص کو یہی خیال ہوتا ہے کہ دیکھئے جانے ہمیں شربت ملتا ہے یا نہیں ۔ ( چنانچہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے ) استغناء کی شان نہیں رہتی تو کل کی شان نہیں رہتی کہ مل جائے مل جائے نہ ملے نہ ملے ۔ اکثر ایسے موقعہ پر جو لوگ جری ہیں وہ تولے اڑتے ہیں اور شرمیلے حضرات رہ جاتے ہیں ۔ یہاں ایک شادی میں یہ ہوا کہ رئیس مدعو ہوکر آئے تھے اور ایک مکان میں ٹہھرے ہوئے تھے شادی کا کھانا ہوتا رہا بٹتا رہا ۔ بھنگیوں تک نے کھایا اور لیا ۔ اور وہ رئیس صاحب بھول میں رہ گئے ان کو کسی نے پوچھا بھی نہیں ۔ صبح جب صاحب خانہ کو خبر ہوئی