البتہ فرض کرتا اس کو اپنے فرشتوں پر کوئى ان فرشتوں میں سے رکوع کر رہا ہے اور کوئى ان میں سے سجدہ کر رہا ہے. یعنى فرشتے چونکہ پاکیزہ اور اللہ کے مقرب بندے ہیں اور ان میں عبادت ہى کا مادہ رکھا گیا ہے جس سے ان کو عبادت سے بہت بڑا تعلق ہے سو اگر کوئى عبادت نماز سے افضل ہوتى تو ان پر فرض کى جاتى اور یہ بھى اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجموعى ہیئت سے نماز جس طرح ہم پر فرض ہے اس طرح ملائکہ پر نہیں بلکہ اس نماز کے بعض اجزاء بعض ملائکہ پر فرض ہیں. سو ہمارى کیسى خوش نصیبى ہے کہ وہ اجزاء نفیسہ عبادت کے جو ملائکہ کو تقسیم کیے گئے مجموعى ہیئت سے ہم کو عطا ہوئے سو اس نعمت کى بڑى قدر کرنى چاہیے. حضرت انس رضى اللہ عنہ حضور سرور عالم صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اپنى نماز میں موت کو یاد کر اس لیے کہ بے شک مرد یا عورت جب موت کو یاد کرے گا اپنى نماز میں البتہ لائق ہے وہ اس بات کے کہ اچھى نماز ادا کرے اور نماز پڑھ اس مرد کى جیسى نماز جو نہیں گمان کرتا ہے نماز پڑھنے کا سو اس نماز کے جسے ادا کر رہا ہے اور بچا تو اپنى ذات کو ایسے کام سے معذرت کى جاتى ہے یعنى ایسا کام نہ کر جس سے ندامت ہو اور معذرت کرنى پڑے( رواہ الدیلمى عن انس مرفوعا وحسنہ الحافظ ابن حجر ) حدیث میں ہے کہ افضل نماز وہ ہے کہ جس میں قیام طویل ہو یعنى قیام زیادہ ہو اور قرآن زیادہ پڑھا جائے( رواہ الطحاوى و سعید بن منصور ) حدیث میں ہے کہ اس کى نماز کامل نہیں ہوتى جو اپنى نماز میں عاجزى نہیں کرتا. تخشع کا لفظ جو حدیث میں ہے جس کا ترجمہ عاجزى سے کیا گیا. اصل یہ ہے کہ اس کے معنى سکون کے ہیں مگر چونکہ سکون کے ساتھ نماز پڑھنا بغیر عاجزى کے میسر نہیں ہو سکتا اس لیے عاجزى سے ترجمہ کیا گیا.