کیونکہ یہ زیادہ مشہور ہے اور سکون بغیر عاجزى اس لیے میسر نہیں ہو سکتا کہ جب آدمى بے دھڑک اور بیباکى سے اٹھے بیٹھے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ادھر ادھر نہ دیکھے بلا ضرورت ہلے جلے نہیں بلکہ زىادہ رہے گا اور جب عاجزى ہوگى تو ادب کے ساتھ بغیر ادھر ادھر دیکھے اچھى طرح نماز ادا کرے گا. حضرت على سے بسند صحیح روایت ہے کہ آخر کلام نبى صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ اہتمام رکھو نماز کا اور خدا س د-رو لوند-ى غلاموں کے بارے میں (کنزل العمال) یہ دونوں باتیں اس قدر اہتمام کے لائق تھیں کہ حضور سرور عالم صلى اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے روانگى کے وقت بھى اس کا اہتمام فرمایا اس لیے کہ نماز میں لوگ کوتاہى زیادہ کرتے ہیں. نیز لوند-ى غلاموں نوکر بیوى بچوں کے تکلىف دینے اور ان کو حقیر سمجھنے کو بھى معمولى بات خیال کرتے ہیں. پس مسلمانوں کو اس طرح بڑا اہتمام کرنا چاہیے اللہ پاک کے بعضے نیک اور بزرگ بندوں کو تو نماز سے اس قدر شوق تھا کہ حضرت منصور بن زاذان تابعى رضى اللہ تعالى عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ آیت نکلنے سے عصر تک برابر نماز پڑھتے تھے. ظاہر ہے کہ فرض تو اس درمیان میں فقط دو نمازیں تھیں. ظہر اور عصر باقى نفل پڑھتے تھے. پر بعد عصر مغرب تک سبحان اللہ پڑھتے رہتے تھے. پھر مغرب پڑھتے تھے اور ان کى یہ حالت تھى کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ ملک الموت دروازے پر ہیں تو اپنے عمل میں کچھ زیادتى نہ فرما سکتے تھے یعنى اپنے دینى کاموں کو موت کے قریب ہونے سے بڑھا نہیں سکتے تھے اس لیے کہ بڑھا وہ سکتا ہے جو موت سے غافل ہو اور تمام وقت یاد الہى میں صرف نہ کرتا ہو. تو جب وہ موت کا نزدیک آنا سنے گا عمل میں ترقى کرے گا. اور جس کا کوئى وقت ہى خالى نہیں اور ہر وقت یاد حق میں مصروف ہے اور موت کو ہر وقت پاس ہى سمجھتا ہے سو وہ کس طرح ترقى کرے اور یہ عالم بھى بڑے تھے اور بڑے بڑے علماء نے ان سے حدیث حاصل کى ہے.