مسئلہ18. اسى طرح اگر حقدار ولى کے ہوتے دوسرے ولى نے نابالغ کا نکاح کر دیا جیسے حق تو تھا باپ کا اور نکاح کر دیا دادا نے اور باپ سے بالکل رائے نہیں لى تو وہ نکاح باپ کى اجازت پر موقوف رہے گا یا حق تو تھا بھائى کا اور نکاح کر دیا چچا نے بھائى کى اجازت پر موقوف ہے.
مسئلہ19. کوئى عورت پاگل ہو گئى اور عقل جاتى رہى اور اس کا جو اب لڑکا بھى موجود ہے اور باپ بھى ہے. اس کا نکاح کرنا اگر منظور ہو تو اس کا ولى لڑا ہے کیونکہ ولى ہونے میں لڑکا باپ سے بھى مقدم ہے.
مہر کا بیان
مسئلہ1. نکاح میں چاہے مہر کا کچھ ذکر کرے چاہے نہ کرے ہر حال میں نکاح ہو جائے گا. لیکن مہر دینا پڑے گا بلکہ اگر کوئى یہ شرط کر لے کہ ہم مہر نہ دیں گے بے مہر کا نکاح کرتے ہیں تب بھى مہر دینا پڑے گا.
مسئلہ2. کم سے کم مہر کى مقدار تخمینا پونے تین روپے بھر چاندى ہے اور زیادہ کى کوئى حد نہیں چاہے جتنا مقرر کرے لیکن مہر کا بہت بڑھانا اچھا نہیں. سو اگر کسى نے فقط ایک روپیہ بھر چاندى یا ایک روپیہ یا ایک اٹھنى مہر مقرر کر کے نکاح کیا تب بھى پونے تین روپے بھر چاندى دینى پڑے گى شریعت میں اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا. اور اگر رخصتى سے پہلے ہى طلاق دیدے تو اس کا آدھا دے.
مسئلہ7. اگر نکاح کے وقت مہر کا بالکل ذکر ہى نہیں کیا گیا کہ کتنا ہے یا اس شرط پر نکاح کیا کہ بغیر مہر کے نکاح کرتا ہوں کچھ مہر نہ دوں گا. پھر دونوں میں سے کوئى مر گیا یا ویسى تنہائى و یکجائى ہو گئى جو شرع میں معتبر ہے تب بھى مہر دلایا جائے گا اور اس صورت میں مہر مثل دینا ہوگا. اور اگر اس صورت میں ویسى تنہائى سے پہلے مرد نے طلاق دیدى تو مہر پانے کى مستحق نہیں ہے بلکہ فقط ایک جوڑا کپڑا پائے گى اور یہ جوڑا دىنا مرد پر واجب ہے نہ دے گا تو گنہگار ہوگا.