رواہ ابن عساکر بسند حسن کذا فى کنزالعمال آج )حضرت ابوہرىرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز افضل ان عبادتوں کى ہے جن کو اللہ نے بندوں پر مقرر فرمایا ہے. سو جو طاقت رکھے بڑھانے کى سو چاہیے کہ بڑھا دے یعنى کثرت سے پڑھے تاکہ ثواب کثرت سے ملے. حضرت عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس جبرئیل اللہ تبارک و تعالى کے پاس سے آئے پس کہا اے محمد تحقیق اللہ عزوجل فرماتا ہے بے شک میں نے تیرى امت پر پانچ نمازیں فرض کر دیں جس شخص نے ان کو پورا ادا کیا ان کے وضو کے ساتھ اور ان کے وقتوں کے ساتھ اور ان کے رکوع کے ساتھ اور ان کے سجدہ کے ساتھ ہو گیا اس کے لیے ذمہ بسبب ان نمازوں کے اس بات کا کہ میں اس کو داخل کروں بسبب ان نمازوں کے جنت میں اور جو ملا مجھ سے اس حال میں کہ بے شک کمى کى ہے اس نے اس میں سے کچھ سو نہیں ہے اس کے لیے میرے پاس ذمہ اگر چاہوں اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں اس پر رحم کروں. کنزالعمال حدیث میں ہے کہ جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا. پھر نماز پڑھى دو رکعت اس طرح کہ نہ بھولے اور سہو نہ ہو. ان دونوں میں بخش دے گا اللہ اس کے گذشتہ گناہ ( رواہ احمد وابوداود والحاکم عن زید بن خالد الجہنى کذا فى الکنز) دو رکعت نماز پڑھنى اس اہتمام سے کہ اس میں سہو نہ ہو ممکن ہے اور سہولت سے ادا ہو سکتى ہے. غرض یہ ہے کہ غفلت سے نہ ہو. اکثر سہو غفلت سے ہى ہوتا ہے. حدیث میں ہے مرد و عورت کى نماز نور پیدا کرتى ہے سو جو چاہے تم میں سے روشن کرے اپنے دل کو حدیث میں ہے کہ بے شک اللہ تعالى نے نہیں فرض کى کوئى چیز زیادہ بزرگ توحید یعنى خدا کو اس کى ذات و صفات و افعال میں یکتا ماننا اور نماز سے اور اگر اس مذکور سے افضل کوئى چیز ہوتى.