حضرت ابوامامۃ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مثال پانچوں نمازوں کى ایسى ہے جیسے میٹھے غیر کھارى پانى کى نہر جو جارى ہو تم میں سے کسى کے دروازے پر اور وہ نہائے اس میں روز مرہ پانچ بار سو کیا باقى رہے گا اس پر کچھ میل (رواہ الطبرانى فى الکبیر وفیہ عفیر بن معد ان وہو ضعیف جدا کذا فى مجمع الزوائد )حضرت ابوہرىرہ سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بے شک اول وہ چیز کہ اس کا بندہ سے حساب لیا جائے گا روز قیامت وہ اس کى نماز ہے. پس اگر درست ہوگى حساب میں درست ہوں گے اس کے باقى اعمال اس لیے کہ نمازى کے نماز کے سوا باقى اعمال بھى نماز کى برکت سے درست ہو جاتے ہیں اور اگر خراب ہوگى تو خراب ہوں گے اس کے باقى اعمال پھر فرمائے گا حق تعالى دیکھو اے فرشتوں کیا میرے بندہ کى کچھ نفل نمازیں بھى نامہ اعمال میں ہیں. سو اگر ہوں گى اس کى کچھ نفل نمازیں تو ان نفلوں سے فرض نماز کى خرابى کو پور اکیا جائے گا. پھر باقى فرائض بھى اسى طرح حساب لیے جائیں گے اور نوافل سے کمى پورى کى جائے گى جیسے فرض روزہ نفل روزہ فرض صدقہ نفل صدقہ وغیرہ بسبب مہربانى اور رحمت اللہ کے یعنى یہ خدا کى رحمت ہے کہ فرض کو نفل سے پورا کیا جائے گا. ورنہ قاعدہ تو یہى چاہتا ہے کہ فرض نفل سے پورا نہ ہو. اور جب پورا نہ ہو تو عذاب دیا جائے. مگر سبحان اللہ کیا رحمت خداوندى ہے. اور جس کے فرائض درست نہ ہوں گے اور نوافل بھى نہ ہوں گے تو اسے عذاب دیا جائے گا. ہاں اگر خدائے تعالى رحم کر دے تو یہ دوسرى بات ہے.
(