حضرت ابوامامہ باہلى صحابى سے روایت ہے کہ میں نے سنا ہے جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے ایک فرض نماز دوسرى نماز کے ساتھ مل کر مٹا دیتى ہے ان گناہوں کو جو اس نماز سے پہلے ہوئے یعنى اس نماز سے پہلے جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ معاف ہو گئے. اسى طرح اور دوسرى نماز تک جو گناہ صغیرہ ہوئے وہ اس سے معاف ہو گئے اور نماز جمعہ مٹا دیتى ہے ان گناہوں کو جو اس جمعہ سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا جمعہ پڑھے. اور بعضى حدیثوں میں اس سے آگے تین دن آگے تک گناہ معاف ہو جانا وارد ہے یعنى جمعہ کى نماز سے تین دن آگے کے گناہ صغیرہ معاف کیے جاتے ہیں اور روزہ ماہ رمضان کا مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس رمضان سے پہلے ہوئے. یہاں تک کہ دوسرے رمضان کے روزے رکھے اور حج مٹا دیتا ہے ان گناہوں کو جو اس سے پہلے ہوئے یہاں تک کہ دوسرا حج کرے. پھر کہا راوى نے فرمایا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے نہیں جائز ہے کسى مسلمان عورت کو حج کرنا مگر ہمراہ خاوند کے یا ذى محرم کے (رواہ الطبرانى فى الکبیر وفیہ المفضل بن صدقۃ وہو متروک الحدیث) اگر کوئى کہے جس شخص سے گناہ صغیرہ نہ ہوں تو اس کو کیا فضیلت حاصل ہوگى. دوسرے یہ کہ نمازوں کے ادھر ادھر کے سب گناہ معاف ہوئے تو جمعہ وغیرہ سے کون سے گناہ معاف ہوں گے اب تو کوئى گناہ ہى نہ رہا جو صغیرہ ہو. جواب یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں درجے بلند ہوں گے.