اور اس کو مفصل طور پر رسالہ ازالۃ الرین عن حقوق الوالدین میں بیان کیا ہے اس مرد نے عرض کیا کہ قسم اس ذات کى جس نے آپ کو نبى برحق بنا کر بھیجا ہے میں البتہ ضرور جہاد کروں گا اور بے شک ضرور ان دونوں والد اور والدہ کو چھوڑ جاؤں گا فرمایا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے تو خوب جاننے والا ہے یعنى والدین کے ساتھ نیکى کرنے اور جہاد کرنے میں سے جس طرف تیرى طبیعت راغب ہو اس کو کر. اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جہاد کا درجہ والدین کے ساتھ نیکى کرنے سے بڑھ کر ہے. اور بعضى حدیثوں میں بعد نماز فرض کے حقوق والدین کے ادا کرنے کا بڑا درجہ وارد ہوا ہے. اس کے بعد جہاد کا مرتبہ. سو جواب یہ ہے کہ یہاں جہاد سے حقوق والدین کے افضل ہونے کے یہ معنى ہیں کہ حقوق والدین چونکہ بندوں کے حق ہیں جو بغیر معافى بندوں کے معاف نہیں ہو سکتے. اس اعتبار سے ان کا مرتبہ جہاد سے بڑھ کر ہے کہ اگر کوئى فرض جہاد ادا نہ کرے اور اس کا وقت نکل جائے تو توبہ کر لینے سے یہ گناہ معاف ہو جائے گا مگر حقوق العباد فقط توبہ سے معاف نہیں ہوتے. دوسرا جواب یہ ہے کہ جناب رسول مقبول کى خدمت میں مختلف قسم کے سائل حاضر ہوتے تھے اور آپ ہر شخص کو اس کى حالت کے موافق جواب دیتے تھے رواہ احمد و فیہ ابن لہیعۃ زنۃ فعیلۃ وہو ضعیف وقد حسن لہ الترمذى و بقىۃ رجالہ رجال الصحیح کذا فى مجمع الزوائد حضرت ابو ایوب انصارى یہ صحابى ہیں مدینہ میں اول ان ہى کے مکان میں حضور سرور عالم صلى اللہ علیہ وسلم نے نزول فرمایا تھا جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تھے سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلعم فرماتے تھے کہ بے شک ہر نماز نمازى کے ان گناہوں کو جو اس نماز کے آگے ہیں( رواہ احمد باسناد حسن) مطلب یہ ہے کہ ہر نماز پڑھنے سے وہ گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس نماز سے دوسرى نماز پڑھنے تک کرے.