اس نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا عمل افضل ہے فرمایا کہ نماز. اس نے عرض کیا پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا نماز یہ ارشاد تین بار فرمایا نماز کى فضیلت اس قدر تاکید سے نماز کے عظیم الشان ہونے کى وجہ سے آپ نے بیان فرمائى تاکہ لوگ اس کا خوب اہتمام کریں اور ضائع نہ ہونے دیں پھر جب غلبہ کیا اس نے آپ پر یعنى بار بار پوچھا کہ اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے. اور یہ سوال بظاہر چوتھى بار ہوگا تو فرمایا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے جہاد اللہ کے راستہ میں یعنى نماز کے بعد کافروں سے لڑنا اس لیے کہ خدا کا دین غالب ہو نہ اس لیے کہ مجھے کچھ نفع مال تعریف وغیرہ حاصل ہو اگرچہ مال وغیرہ مل جائے لیکن نیت یہ نہ ہونى چاہیے. سو یہ سب اعمال سے بعد فرض نماز کے افضل ہے اس مرد نے عرض کیا پھر یہ گذارش ہے کہ میرے والدین زندہ ہیں ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے فرمایا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے میں تجھے والدین سے بھلائى کرنے کا حکم کرتا ہوں یعنى ان سے نیکى کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا کہ ان کو تکلیف دینا حرام ہے اس قدر حق والدین کا فرض اور ضرورى ہے کہ جس کام میں ان کو تکلیف ہو وہ نہ کرے. بشرطیکہ وہ کوئى ایسا کام نہ ہو جس کا درجہ والدین کے حق ادا کرنے سے بڑا ہو اور اس میں حق تعالى کى نافرمانى نہ ہو اور تکلیف سے مراد وہ تکلیف ہے جس کو شریعت نے تکلیف شمار کیا ہے. اور اس سے زیادہ حق ادا کرنا مستحب ہے ضرور نہیں خوب سمجھ لو. اس مسئلہ میں عام لوگ بڑى غلطى کرتے ہیں.