حضرت طفاوى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں چھ ماہ تک ابوہرىرہ کا مہمان رہا سو نہ دیکھا میں نے کسى مرد کو صحابہ میں سے کہ بہت مستعد ہو اور بہت خدمت کرے مہمان کى ابوہرىرہ سے زیادہ. اور حضرت ابو عثمان نہدى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں سات روز تک حضرت ابوہرىرہ کا مہمان رہا. سو ابوہرىرہ اور آپ کى بیوى اور آپ کا خادم یکے بعد دیگرے رات کے تین حصوں میں نوبت بنوبت جاگتے تھے یعنى ایک شخص نماز پڑھتا تھا پھر دوسرے کو جگاتا تھا اور خود آرام کرتا تھا پس وہ نماز پڑھتا تھا دوسرا آرام کرتا تھا اور تیسرے کو جگاتا تھا اور وہ نماز پڑھتا تھا یہ قصے تذکرۃ الحفاظ بخارى وغیرہ سے لکھے گئے ہیں سو ان سے روایت ہے کہ فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اگر تم میں کسى کى یہ ستون ملک ہوتا تو وہ شخص اس بات کو برا جانتا کہ وہ ستون خراب کر دیا جائے سو کیونکر تم میں سے کوئى ایسا کام کرتا ہے کہ اپنى نماز خراب کرتا ہے ایسى نماز کہ وہ اللہ کے لیے ہے پس تم پورے طور پر باقاعدہ اپنى نماز ادا کرو اس لیے کہ بے شک اللہ نہیں قبول کرتا مگر کامل کو یعنى ناقص نماز اور تمام ناقص عبادتیں مقبول نہیں ہوتیں رواہ الطبرانى فى الاوسط حضرت عبداللہ بن عمرو سے جو صحابى ہیں روایت ہے کہ تحقیق ایک مرد حضور صلى اللہ علیہ وسلم کى خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا افضل اعمال سے یعنى افضل عمل دین میں کون سا ہے بعد ایمان کے سو فرمایا جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے نماز فرض
بہشتى زىور: