پس میں نے عرض کیا میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے علم سکھلائیں اس علم میں سے جو اللہ تعالى نے آپ کو سکھلایا ہے. سو اتار لیا آپ نے اس کملى کو جو میرى پشت پر تھى یعنى میں اس کو اوڑھے ہوئے تھا پھر اسے بچھایا میرے اور اپنے درمیان یہاں تک کہ گویا کہ تحقیق میں دیکھتا ہوں جوؤں کى طرف جو چلتى تھیں اس پر پھر آپ نے مجھ سے کچھ کلمات فرمائے تبرکا یہاں تک کہ جب آپ وہ کلمات پورے فرما چکے تو فرمایا کہ اس کو اکٹھا کر لے سمیٹ لے پھر اس کو اپنے سینے سے لگا لے. ابوہرىرہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں ایسا ہو گیا کہ میں ایک حرف نہیں ساقط کرتا ہوں اس علم سے جو مجھ سے حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا یعنى حافظہ بہت عمدہ ہو گیا اور حضرت ابوہرىرہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالى سے توبہ استغفار بارہ ہزار بار روز کرتا ہوں یعنى استغفراللہ واتوب الیہ یا اس کى مثل کچھ اور الفاظ بارہ ہزار بار روز پڑھتے تھے. اور ان کے پاس ایک د-ورہ تھا جس میں دو ہزار گرہ لگى تھیں سوتے نہیں تھے جب تک کہ اس قدر یعنى دوہزار بار سبحان اللہ نہ پڑھ لیتے. یعنى سونے سے پہلے اس قدر سبحان اللہ پڑھتے تھے. حضرت عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ جو بڑے درجہ کے صحابى اور عالم ہیں اور سنت کى تابعدارى کا اس قدر شوق تھا کہ آپ نے طریقہ سنت کا اس قدر تلاش کیا کہ لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ اس محنت میں شاید ان کى عقل جاتى رہے. اور حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ نعم الرجل عبداللہ لوکان یصلى من اللیل یعنى اچھا مرد ہے عبداللہ ابن عمر کاش کہ نماز پڑھتا تہجد کى. جب سے آپ نے تہجد کى نماز کبھى نہیں چھوڑى اور رات کو کم سوتے تھے سو وہ فرماتے ہیں کہ اے ابوہرىرہ تم بے شک زیادہ رہنے والے تھے ہم لوگوں یعنى صحابہ میں حضور صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور زیادہ جاننے والے تھے ہم لوگوں میں آپ کى حدیث کے.