یعنى ہر شخص دعوى کرتا ہے کہ مجھے لیلے کا وصال ہو گیا. اور لیلى اس بات کا ان لوگوں کے لیے اقرار نہیں کرتى. سو ان لوگوں کا دعوى کیسے صحیح ہو سکتا ہے. اسى طرح جو شخص اللہ و رسول کى محبت کا مدعى ہو. اور حدیث و قرآن کے خلاف عمل کرے. اور اللہ و رسول اس کے دعوى کى تکذیب کریں تو اس کا دعوى کیسے صحیح ہو سکتا ہے. حدیث میں صاف مذکور ہے کہ طریق حق وہ ہے جس پر میں یعنى رسول اللہ اور میرے صحابہ ہیں. اس حدیث سے خوب واضح ہے کہ جو طریقہ خلاف طریق رسول ہو وہ گمراہى ہے اور اس پر عمل کرنے والے سے رسول اللہ سخت ناخوش ہیں اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے پرورش پائى اس حال میں کہ میں یتیم تھا. اور میں نے ہجرت کى مدینہ کو اس حال میں کہ میں مسکین تھا اور میں غزوان کى بیٹى کا نوکر تھا. کھانے کى عوض اور اس شرط پر کہ کبھى سفر میں پیدل چلوں اور کبھى سوار ہو لوں. میں ان کے اونٹ ہانکتا تھا شعر پڑھ کر عرب میں اشعار پڑھ کر اونٹوں کو چلاتے ہیں جس سے اونٹ بسہولت چلے جاتے ہیں اور میں لکڑیاں لاتا تھا ان کے یعنى اپنے مالک کے گھر والوں کے لیے جب وہ اترتے تھے یعنى کہیں پڑاؤ د-التے تھے پس شکر ہے اس اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا. اور ابوہرىرہ کو امام اور پیشوا بنایا. یعنى دین اسلام قبول کر کے یہ دولت حاصل ہوئى کہ امامت دین میسر ہوئى اور یہ خدا کى نعمت کا شکر ادا فرمایا. بطور تکبر اور فخر کے اپنے کو پیشوا نہیں کہا. اور خدا کى نعمت کا اظہار کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کو جتنا درجہ انسان کو حاصل ہوا س کا ظاہر کرنا ثواب ہے اور با اعتبار فخر و تکبر منع اور حرام ہے. اور حضرت ابوہرىرہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان غنیمتوں کے مال میں سے ہم سے کیوں نہیں مانگتے.