پھر بعد وفات نبى اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے ان کى دنیاوى حالت درست ہو گئى اور مال میں ترقى ہوئى اور مدینہ منورہ کے حاکم مقرر کیے گئے. حاکم ہونے کى حالت میں لکڑیوں کا گٹھہ لے کر بازار میں گزرتے تھے اور فرماتے تھے کہ راستہ کشادہ کر دو حاکم کے لیے یعنى میرے نکلنے کے لیے راستہ چھوڑ دو. دیکھو باوجود اتنے بڑے عہدے دار ہونے کے اپنا کام اور وہ بھى اس طرح کہ معمولى عزت دار آدمى اس طرح کام کرنے سے اپنى ذلت سمجھتا ہے. خود کرتے تھے اور ذرا بڑائى کا خیال نہ تھا کہ مىں کلکٹر ہوں کسى ماتحت یا نوکر سے یہ کام لیلوں. یہ طریقہ ہے ان حضرات کا جنہوں نے سالار انبیاء احمد مجتبى محمد مصطفے صلى اللہ علیہ وسلم سے تعلیم پائى تھى اور آپ کى صحبت اٹھائى تھى. ہر شخص اپنے کو ذرا سا رتبہ حاصل ہونے پر بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے اور پھر دعوى محبت رسول مقبول کرتا ہے. مگر حقیقت میں محبت رسول اسى کو ہے جو آپ کے احکام کى تعمیل کرتا ہے اور آپ کى سنت کى ہر کام میں تابعدارى کرتا ہے خوب کہا ہے
وکل یدعى وصلا بلیلى
ولیلى لا تقرلہم بذاک