مسئلہ. جو چیزیں تول کر نہیں بکتیں بلکہ گز سے ناپ کر یا گن کر بکتى ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک ہى قسم کى چیز دے کر اسى قسم کى چز لو جیسے امرود دے کر دوسرے امرود لے یا نارنگى دے کر نارنگى یا کپڑا دے کر دوسرا ویسا کپڑا لیا. تو برابر ہونا شرط نہیں کمى بیشى جائز ہے لیکن اسى وقت لین دین ہو جانا واجب ہے اور اگر ادھر اور چیز ہے اور اس طرف اور چیز مثلا امرود دے کر نارنگى لى یا گیہوں دے کر امرود لیے یا تنزیب دے کر لٹھا یا گاڑھا لیا تو بہرحال جائز ہے نہ تو دونوں کا برابر ہونا واجب ہے اور نہ اسى وقت لین دین ہونا واجب ہے.
مسئلہ. سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ علاوہ چاندى سونے کے اگر دونوں طرف ایک ہى چیز ہو اور وہ چیز تول کر بکتى ہو جیسے گیہوں کے عوض گیہوں چنے کے عوض چنا وغیرہ تب تو وزن میں برابر ہونا بھى واجب ہے اور اسى وقت سامنے رہتے رہتے لین دن ہو جانا بھى واجب ہے اور اگر دونوں طرف ایک ہى چیز ہے اس طرف سے اور چیز لیکن دونوں تول کر بکتى ہیں جیسے گیہوں کے بدلے چنا چنے کے بدلے جوار لینا. ان دونوں صورتوں میں وزن میں برابر ہونا واجب نہیں. کمى بیشى جائز ہے البتہ اسى وقت لین دین ہونا واجب ہے اور جہاں دونوں باتیں نہ ہوں یعنى دونوں طرف ایک ہى چیز نہیں اس طرف کچھ اور ہے اس طرف کچھ اور. اور وہ دونوں وزن کے حساب سے بھى نہیں بکتیں وہاں کمى بیشى بھى جائز ہے اور اسى وقت لین دین کرنا بھى واجب نہیں جیسے امرود دے کر نارنگى لینا. خوب سمجھ لو.