مسئلہ. گائے کا گوشت دے کر بکرى کا گوشت لیا تو دونوں کا برابر ہونا واجب نہیں کمى بیشى جائز ہے مگر ہاتھ در ہاتھ ہو. مسئلہ. اپنا لوٹا دے کر دوسرے کا لوٹا لیا یا لوٹے کو پتیلى وغرہ کسى اور برتن سے بدلا تو وزن میں دونوں کا برابر ہونا اور ہاتھ در ہاتھ ہونا شرط ہے اگر ذرا بھى کمى بیشى ہوئى تو سود ہو گیا کیونکہ دونوں چیزیں تانبے کى ہیں اس لیے وہ ایک ہى قسم کى سمجھى جائیں گى. اسى طرح اگر وزن میں برابر ہو مگر ہاتھ در ہاتھ نہ ہوئى تب بھى سود ہوا. البتہ اگر ایک طرف تانبے کا برتن ہو دوسرى طرف لوہے کا یا پیتل وغیرہ کا تو وزن کى کمى بیشى جائز ہے مگر ہاتھ در ہاتھ ہو. مسئلہ. کسى سے سیر بھر گیہوں قرض لیے اور یوں کہا ہمارے پاس گیہوں تو ہیں نہیں ہم اس کے عوض دو سیر چنے دے دیں گے تو جائز نہیں کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ گہوں کو چنے سے بدلتى ہے اور بدلتے وقت ایسى دونوں چیزوں کا اسى وقت لین دین ہو جانا چاہیے کچھ ادھار نہ رہنا چاہیے. اگر کبھى ایسى ضرورت پڑے تو یوں کرے کہ گیہوں ادھار لے جائے اس وقت یہ نہ کہے کہ اس کے بدلے ہم چنے دیں گے بلکہ کسى دوسرے وقت چنے لا کر کہے. بہن اس گیہوں کے بدلے تم یہ چنے لے لو یہ جائز ہے. مسئلہ. یہ جتنے مسئلے بیان ہوئے سب میں اسى وقت رہتے رہتے سامنے لین دین ہو جانا یا کم سے کم اسى وقت سامنے دونوں چیزیں الگ کرکے رکھ دینا شرط ہے. اگر ایسا نہ کیا تو سودى معاملہ ہوا.