اس تفصیل سے چند باتیں معلوم ہوئیں الفاظ کے مقابلہ میں نیت کا کچھ اعتبار نہیں یعنى اگر کوئى ایسى نیت کرے جس کے الفاظ اصلا مساعدت نہ کرتے ہوں تو اس کا کچھ اعتبار نہ ہوگا اگر کسى نے ایسے معنى مراد لیے جو الفاظ سے زائد ہوں یعنى الفاظ جزئى ہوں اور معنى مراد کلى یا معنى مراد کل ہوں اور الفاظ جزو تویہ مراد لینا بیکار ہوگا. اور اگر ایسے معنى مراد لیے جو الفاظ کافرو یاجو ہیں تو وہ معنى معتبر ہو سکتے ہیں مجاز عرفى اگر ایسا ہو کہ حقیقت بالکل چھوٹ گئى ہو تو اس مجاز عرفى کا اعتبار ہوگا. اور حقیقت لغویہ کا اعتبار نہ ہوگا.