لیکن میرے نزدیک یہ تینوں باتیں صحیح نہیں. امر اول اس لیے کہ ایمان کا تعلق قصد وارادہ سے بھى ہے نہ کہ طلاق و عتاق وغیرہ کى طرح صرف الفاظ سے کما یدل علیہ قولہ تعالى ولکن یواکذ کم بما کسبت قلوبکم وقولہ لکن یواخذ کم بما عقدتم الایمان. پس اگر کسى نے کسى خاص نیت سے کوئى قسم کھائى اور ایسے الفاظ بولے جو اس نیت کے مطابق نہیں ہیں تو دیانتہ اس قسم کا اعتبار ہونا چاہیے گو قضاء نہ ہو. کیونکہ اس وقت یہ اس کى اصطلاح خاص ہوگى اور اصطلاح خاص کے مقرر کرنے کا اسے اختیار ہے. امر دوم اس لیے کہ اگر مجاز عرفى حقیقت لغویہ کے مبائن ہو تو اس وقت اس کا اعتبار تو ہو سکتا ہے لیکن اگر معنى مجازى عرفى معنى لغوى سے عام ہوں تو ان کا اعتبار نہیں ہو سکتا. دونوں صورتوں میں وجہ فرق معلوم نہیں ہوتى. کیونکہ دونوں صورتوں میں معنى حقیقى بالکل چھوٹ گئے ہیں مگر ایک صورت میں معنى حقیقى مجازى کافرد یا اس کا جزو ہیں. اور دوسرى صورت میں اس کے مبائن. سو یہ فرق کوئى موثر فرق نہیں ہے. اسى سے امر سوم کا مخدوش ہونا بھى ظاہر ہو گیا پس جبکہ وہ محمل مخدوش ہو گئے جو ان قواعد کے لیے علامہ شامى وغیرہ نے تجویز کیے تھے تو اب کہا جائے گا کہ الایمان مبنىۃ على العرف اور الایمان مبنىۃ على الالفاظ لا علے الاغراض دونوں متعلق بہ قضا ہیں اور الایمان مبنىۃ على الالفاظ لا على الاغراض کے معنى یہ ہیں کہ امان قضاء الفاظ عرفیہ پر مبنى ہیں نہ ان اغراض پر جو کہ خلاف عرف ہوں. پس ان دونوں قاعدوں میں کوئى تناقض نہیں ہىرا یہ امر کہ بعض جزئیات ان محامل کى تائید نہیں کرتے. تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس وقت ہو سکتا ہے جبکہ دو امر ثابت ہو جائیں. اول یہ کہ وہ جزئیات انھیں فقہا نے نکالى ہیں جنہوں نے یہ قواعد بنائے ہیں یا جن فقہائ نے یہ قواعد قائم کیے ہیں ان کو ان سے اتفاق ہے.