مسئلہ. کسى نے یوں کہ کہ دس روپے مکہ میں خیرات کروں گى تو مکہ میں خیرات کرنا واجب نہیں جہاں چاہے خیرات کرے. یا یوں کہا تھا جمعہ کے دن خیرات کروں گى فلانے فقیر کو دوں گى تو جمعہ کے دن خیرات کرنا اور اسى فقیر کو دینا ضرورى نہیں اسى طرح اگر روپے مقرر کر کے کہا کہ یہى روپے اللہ تعالى کى راہ میں دوں گى تو بعینہ وہى روپے دینا واجب نہیں چاہے وہ دے یا اتنے ہى اور دیدے.
مسئلہ. اسى طرح اگر منت مانى کہ جامع مسجد میں نماز پڑھوں گى یا مکہ میں نماز پڑھوں گى تو بھى اختیار ہے جہاں چاہے پڑھے.
مسئلہ. کسى نے کہ اگر میرا بھائى اچھا ہو جائے تو ایک بکرى ذبح کروں گى یا یوں کہا ایک بکرى کا گوشت خیرات کروں گى تو منت ہو گئى اگر یوں کہا کہ قربانى کروں گى تو قربانى کے دنوں میں ذبح کرنا چاہئے اور دونوں صورتوں میں اس کا گوشت فقیروں کے سوا اور کسى کو دینا اور خود کھانا درست نہیں جتنا خود کھائے یا امیروں کو دیدے اتنا پھر خیرات کرنا پڑے گا.
مسئلہ. ایک گائے قربانى کرنے کى منت مانى پھر گائے نہیں ملى تو سات بکریاں کر دے.
مسئلہ. یوں منت مانى تھى کہ جب میرا بھائى آئے تو دس روپے خیرات کروں گى پھر آنے کى خبر پا کر اس نے آنے سے پہلے ہى روپے خیرات کر دیئے تو منت پورى نہیں ہوئى آنے کے بعد پھر خیرات کرے.
مسئلہ. اگر ایسے کام کے ہونے پر منت مانى جس کے ہونے کو چاہتى اور تمنا کرتى ہو کہ یہ کام ہو جائے جیسے یوں کہے اگر میں اچھى ہو جاؤں تو ایسا کروں. اگر میرا بھائى خیریت سے آجائے تو ایسا کروں. اگر میرا باپ مقدمہ سے برى ہو جائے یا نوکر ہو جائے تو ایساکروں تو جب وہ کام ہو جائے منت پورى کرے. اور اگر اس طرح کہا کہ اگر میں تجھ سے بولوں تو دو روزے رکھوں. یا یہ کہا اگر آج میں نماز نہ پڑھوں تو ایک روپیہ خیرات کروں پھر اس سے بولدى یا نماز نہ پڑھى تو اختیار ہے چاہے قسم کا کفارہ دیدے اور چاہے دو روزے رکھے اور ایک روپیہ خیرات کرے.