مسئلہ. کسى نے ایک رکعت پڑھنے کى منت مانى تو پورى دو رکعتیں پڑھنى پڑیں گى اگر تین کى منت کى تو پورى چار. اگر پانچ کى منت کى تو پورى چھ رکعتیں پڑھے. اسى طرح آگے کا بھى یہى حکم ہے.
مسئلہ. یوں منت مانى کہ دس روپے خیرات کروں گى یا ایک روپیہ خیرات کروں گى تو جتنا کہا ہے اتنا خیرات کرے. اگر یوں کہا کہ پچاس روپے خیرات کروں گى اور اس کے پاس اس وقت فقط دس ہى روپے کى کائنات ہے تو دس ہى روپے دینا پڑیں گے. البتہ اگر دس روپے کے سوا کچھ مال اسباب بھى ہے تو اس کى قیمت بھى لگا لیں اس کى مثال یہ سمجھو کہ دس روپے نقد ہیں اور سب مال اسباب پندرہ روپے کا ہے یہ سب پچیس روپے ہوئے تو فقط پچیس روپے خیرات کرنا واجب ہے اس سے زیادہ واجب نہیں.
مسئلہ. اگر یوں منت مانى کہ دس مسکین کھلاؤں گى تو اگر دل میں کچھ خیال ہے کہ ایک وقت یا دو وقت کھلاؤں گى تب تو اسى طرح کھلا دے اور اگر کچھ خیال نہیں تو دو وقتہ دس مسکین کھلائے اور اگر کچا اناج دے تو اس میں بھى یہى بات ہے کہ اگر دل میں کچھ خیال تھا کہ اتنا اتنا ہر ایک کو دوں گى تو اسى قدر دے اور اگر کچھ خیال نہ تھا تو ہر ایک کو اتنا دے جتنا ہم نے صدقہ فطر میں بیان کیا ہے.
مسئلہ. اگر یوں کہا ایک روپیہ کى روٹى فقیروں کو بانٹوں گى تو اختیار ہے چاہے ایک روپیہ کى روٹى دے چاہے ایک روپیہ کى کوئى اور چیز یا ایک روپیہ نقد دیدے.
مسئلہ. کسى نے یوں کہا دس روپے خیرات کروں گى ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ پھر دسوں روپے ایک ہى فقیر کو دیدے تو بھى جائز ہے ہر فقیر کو ایک ایک روپیہ دینا واجب نہیں. اگر دس روپے بیس فقیروں کو دے دیئے تو بھى جائز ہے اور اگر یوں کہا دس روپے دس فقیروں پر خیرات کروں گى تو بھى اختیار ہے چاہے دس کو دے چاہے کم زیادہ کو.
مسئلہ. اگر یوں کہا دس نمازى کھلاؤں گى یا دس حافظ کھلاؤں گى تو دس فقیر کھلا دے چاہے وہ نمازى اور حافظ ہوں یا نہ ہوں.