صحابیؓ نے وہی جواب دیا‘ پھر صحابی نے غور کیا اور کہنے لگے : بخدا!حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو میری دنیا و آخرت کی مفید باتوں کا اور مجھے ا للہ کے قریب کرنے والے امور کا زیادہ علم ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ مجھ سے پوچھا تو میں ضرور کروں گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا: کیا شادی نہیں کرتے؟ کہتے ہیں‘ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری شادی کرا دیجئے!
فرمایا: فلاں قبیلے والوں کے ہاں جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی لڑکی سے میری شادی کر دو‘ کہتے ہیں ‘میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں‘ تو آپؐ نے صحابہ سے کہا :اپنے بھائی کے لیے گٹھلی کے وزن کے برابر سونا اکٹھا کرو۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے اکٹھا کیا اور اسے لے کر اس قبیلے والوں کے پاس گئے اور ان کی شادی کر ادی۔
پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ولیمہ کرو‘ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کے ولیمے کے لیے ایک بکری جمع کر دی۔ (اخرجہ احمد باسناد حسن)
اس تکرار کا مقصد نکاح کی فضیلت کو بیان کرنا ہے۔
منقول ہے کہ سابقہ امتوں کا ایک فرد عبادت میں اپنے اہل زمانہ پر فائق تھا‘ اس کی حسن عبادت کا تذکرہ انہوں نے اپنے نبی سے کیا تو انہوں نے فرمایا :
بہت اچھا آدمی ہے مگر ایک بات ہے کہ اس نے ایک سنت کو چھوڑ رکھا ہے‘ عابد بڑا پریشان ہوا جب اس نے یہ بات سنی اور نبی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تو نے شادی کو چھوڑ رکھا ہے ‘ تو اس عابد نے کہا :
میں اسے حرام نہیں سمجھتا لیکن میں فقیر ہوں اور میری گزراوقات لوگوں کے سہارے ہے، تو نبی نے فرمایا:
میں تیری شادی اپنی بیٹی سے کرتا ہوں اور اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دی۔
پس نکاح قدیم سنت اور انبیاء کے اخلاق حسنہ میں سے ہے۔ اور نکاح کے پانچ فوائد ہیں:
اولاد شہوت کا ختم کرنا