ہوگی کہ امی جان کا بیان کچھ اور ہوگا… اور دوسری طرف بیگم صاحبہ کچھ اور قسم کا راگ الاپ رہی ہوں گی،دونوں کی پیشانی پر بارہ بجے ہوںگے۔
محمد وسیم:
تمہارے اکیلے پر کیا موقوف ، آج کل ہم سب ہی اس حالت سے گزر رہے ہیں اور میرے خیال میں اس کا حل یہ ہے کہ ہم توبہ اور استغفار زیادہ کریں۔
افضال احمد:
نہیں جی!میرا خیال ہے کہ دوسروں کی حالت میری جیسی قابل رحم نہ ہوگی سچ پوچھو تو میں زندگی سے بیزار ہوگیا ہوں۔شادی سے پہلے سنتا تھا کہ فلاں ساس بہو میں آپس میں برابر بنتا نہیں۔روزانہ جھگڑا فساد ہوتا ہے ‘لیکن شادی کے بعد اب مجھے اس کا تجربہ ہوا ہے کہ ساس بہو کے جھگڑوں کی وجہ سے میاں بیوی میں بھی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں ‘میرے خیال سے گھریلو جھگڑوں کی ساری ذمہ داری ساس کے سر ہوتی ہے۔خود میںگھر میں دیکھ رہا ہوں کہ کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا کہ امی جان دلہن کو طعن و تشنیع نہ کرتی ہوں۔اتنا ہی نہیں بلکہ گھر کے چھوٹے بڑے سب ہی ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
محمد وسیم:
ارے بھائی! یہی حالت آج کل ہمارے گھر کی بھی ہے ‘بیگم صاحبہ روزانہ تنگ کرتی ہیں کہ یا تو الگ مکان لے لو یا پھر مجھے میکے بھیج دو‘ کیا کروں کیا نہ کروں کچھ سمجھ میںنہیں آتا۔
افضال احمد:
بیچاری دلہن بھی کیا کرے مجھے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ دلہن کو پسند کر کے لانے والی خود ساس ہی ہوتی ہے پھر وہ دشمن کس طرح بن جاتی ہے‘ کیا بہو اس کو کاٹنے دوڑتی ہے ؟ساس اتنا بھی نہیںسوچتی کہ وہ اس کے لڑکے کی بیوی ہے ،اگر وہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی اتنی تعریف نہیں ہوتی جتنی کہ کام کے بگاڑنے پر اس کی مٹی پلیت کی جاتی ہے ۔گھر میں اگر کوئی بگاڑ ہوجائے چاہے کسی اور ہی نے کیا ہو لیکن نام تو دلہن ہی کا آتاہے۔
محمد وسیم:
بھائی ہم دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں …!