مسئلہ. روپے کى پانچ گٹھڑى یا پانچ کھانچى کے حساب سے بھوسا بطور بیع سلم کے لیا تو یہ درست نہیں کیونکہ گٹھڑى اور کھانچى کى مقدار میں بہت فرق ہوتا ہے البتہ اگر کسى طرح سے سب کچھ مقرر اور طے کر لے یا وزن کے حساب سے بیع کرے تو درست ہے.
مسئلہ. سلم کے صحیح ہونے کى یہ بھى شرط ہے کہ جس وقت معاملہ آیا ہے اس وقت سے لینے اور وصول پانے کے زمانے تک وہ چیز بازار میں ملتى رہے نایاب نہ ہو. اگر اس درمیان میں وہ چیز بالکل نایاب ہو جائے کہ اس ملک میں بازاروں میں نہ ملے گو دوسرى جگہ سے بہت مصیبت جھیل کر منگوا سکے تو وہ بیع سلم باطل ہو گئى.
مسئلہ. معاملہ کرتے وقت یہ شرط کر دى کہ فصل کے کٹنے پر فلاں مہینے میں ہم نئے گیہوں لیں گے یا فلانے کھیت کے گیہوں لیں گے تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے اس لیے یہ شرط نہ کرنا چاہیے پھر وقت مقررہ پر اس کو اختیار ہے چاہے نئے دے یا پرانے. البتہ اگر نئے گیہوں کٹ چکے ہوں تو نئے کى شرط کرنا بھى درست ہے.
مسئلہ. تم نے دس روپے کے گیہوں لینے کا معاملہ کیا تھا وہ مدت گزر گئى بلکہ زیاد ہو گئى مگر اس نے اب تک گیہوں نہیں دیئے نہ دینے کى امید ہے تو اب یہ کہنا جائز نہیں کہ اچھا تم گیہوں نہ دو بلکہ اس گیہوں کے بدلے اتنے چنے یا اتنے دھان یا اتنى فلاں چیز دے دو. گیہوں کے عوض کسى اور چیز کا لینا جائز نہیں یا تو اس کو کچھ مہلت دے دو اور بعد مہلت گیہوں لو. یا اپنا روپیہ واپس لے لو. اسى طرح اگر بیع سلم کو تم دونوں نے توڑ دیا کہ ہم وہ معاملہ توڑتے ہیں گیہوں نہ لیں گے روپیہ واپس دے دیا یا تم نے نہیں توڑا بلکہ وہ معاملہ خود ہى ٹوٹ گیا جیسے وہ چیز نایاب ہو گئى کہیں نہیں ملتى تو اس صورت میں تم کو صرف روپے لینے کا اختیار ہے اس روپے کے عوض اس سے کوئى اور چیز لینا درست نہیں. پہلے روپیہ لیلو لینے کے بعد اس سے جو چیز چاہو خریدو.