مسئلہ. جو بات ہو چکى ہے اس پر جھوٹى قسم کھانا بڑا گناہ ہے جیسے کسى نے نماز نہیں پڑھى اور جب کسى نے پوچھا تو کہہ دیا خدا کى قسم میں نماز پڑھ چکى یا کسى سے گلاس ٹوٹ گیا اور جب پوچھا گیا تو کہہ دیا خدا کى قسم میں نے نہیں توڑا جان بوجھ کر جھوٹى قسم کھا لى تو اس کے گناہ کى کوئى حد نہیں اور اس کا کوئى کفارہ نہیں. بس دن رات اللہ سے توبہ و استغفار کر کے اپنا گناہ معاف کرائے سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتا اور اگر غلطى اور دھوکہ میں جھوٹى قسم کھا لى جیسے کسى نے کہا خدا کى قسم ابھى فلانا آدمى نہیں آیا اور اپنے دل میں یقین کے ساتھ یہى سمجھتى ہے کہ سچى قسم کھا رہى ہوں پھر معلوم ہوا کہ اس وقت گیا تھا تو معاف ہے اس میں گناہ نہ ہوگا اور کچھ کفارہ بھى نہیں.
مسئلہ. اگر ایسى بات پر قسم کھائى جو ابھى نہیں ہوئى بلکہ آئندہ ہوگى جیسے کوئى کہے خدا کى قسم آج پانى برسے گا خدا کى قسم آج میرا بھائى آئے گا پھر وہ نہیں آیا اور پانى نہیں برسا تو کفارہ دینا پڑے گا.
مسئلہ. کسى نے قسم کھائى خدا قسم آج قرآن ضرور پڑھوں گى تو اب قرآن پڑھنا واجب ہو گیا نہ پڑھے گى تو گناہ ہوگا اور کفارہ دینا پڑے گا اور کسى نے قسم کھائى خدا کى قسم آج فلانا کام نہ کروں گى تو وہ کام کرنا درست نہیں اگر کرے گى تو قسم توڑنے کا کفارہ دینا پڑے گا.
مسئلہ. کسى نے گناہ کرنے کى قسم کھائى کہ خدا قسم آج فلانے کى چیز چراؤں گى خدا قسم آج نماز نہ پڑھوں گى. خدا قسم اپنے ماں باپ سے کبھى نہ بولوں گى تو ایسے وقت قسم کا توڑ دینا واجب ہے توڑ کے کفارہ دیدے نہیں تو گناہ ہوگا.
مسئلہ. کسى نے قسم کھائى کہ آج میں فلانى چیز نہ کھاؤں گى پھر بھولے سے کھا لى اور قسم یاد نہیں رہى یا کسى نے زبرستى منہ چیر کر کھلا دى تب بھى کفارہ دے.
مسئلہ. غصہ میں قسم کھائى کہ تجھ کو کبھى ایک کوڑى نہ دوں گى پھر ایک پیسہ یا ایک روپیہ دے دیا تب بھى قسم ٹوٹ گئى کفارہ دے.