مسئلہ. اگر کسى کے ذمہ حج فرض تھا اور اس نے سستى سے دیر کر دى پھر وہ اندھى ہوگئى یا اىسى بیمار ہوگئى کہ سفر کے قابل نہ رہى تو اس کو بھى حج بدل کى وصیت کر جانا چاہیے. مسئلہ. اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر مرى ہو کہ قرض وغیرہ دے کر تہائى مال میں سے حج بدل کرا سکتے ہیں تب تو وارث پر اس کى وصیت کا پورا کرنا اور حج بدل کرانا واجب ہے. اور اگر مال تھوڑا ہے کہ ایک تہائى میں سے حج بدل نہیں ہو سکتا تو اس کا ولى حج نہ کرائے. ہاں اگر ایسا کرے کہ تہائى مال مردہ کا دے اور جتنا زیادہ لگے وہ خود دے تو البتہ حج بدل کرا سکتا ہے غرض یہ ہے کہ مردے کا تہائى مال سے زیادہ نہ دے. ہاں اگر اس کے سب وارث بخوشى راضى ہو جائیں کہ ہم اپنا حصہ نہ لیں گے تم حج بدل کرا دو تو تہائى مال سے زیادہ لگا دینا بھى درست ہے لیکن نابالغ وارثوں کى اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں ہے اس لیے ان کا حصہ ہرگز نہ لے.
مسئلہ. اگر وہ حج بدل کى وصیت کر کے مر گئى لیکن مال کم تھا اس لیے تہائى مال میں حج بدل نہ ہو سکا اور تہائى سے زیادہ لگانے کو وارثوں نے خوشى سے منظور نہ کیا اس لیے حج نہیں کرایا گیا تو اس بیچارى پر کوئى گناہ نہیں.
مسئلہ. سب وصیتوں کا یہى حکم ہے. سو اگر کسى کے ذمے بہت روزے یا نمازیں قضا باقى تھیں یا زکوۃ باقى تھى اور وصیت کر کے مر گئى تو فقط تہائى مال سے یہ سب کچھ کیا جائے گا. تہائى سے زیادہ بغیر وارثوں کى دلى رضا مندى کے لگانا جائز نہیں ہے. اور اس کا بیان پہلے بھى ہوچکا ہے.
مسئلہ. بغیر وصیت کے اس کے مال میں سے حج بدل کرانا درست نہیں ہے. ہاں اگر سب وارث خوشى سے منظور کر لیں تو جائز ہے. اور انشاء اللہ حج فرض ادا ہو جائے گا مگر نابالغ کى اجازت کا کچھ اعتبار نہیں.
مسئلہ. اگر یہ عورت عدت میں ہو تو عدت چھوڑ کر حج کو جانا درست نہیں.