مسئلہ. حج کرنے کے لیے راستہ میں اپنے شوہر کا یا کسى محرم کا ساتھ ہونا بھى ضرورى ہے. بغیر اس کے حج کے لیے جانا درست نہیں ہے. ہاں البتہ اگر مکہ سے اتنى دور پر رہتى ہو کہ اس کے گھر سے مکہ تک تىن منزل نہ ہو تو بے شوہر اور محرم کے ساتھ ہوئے بھى جانا درست ہے.
مسئلہ. اگر وہ محرم نابالغ ہو یا ایسا بد دین ہو کہ ماں بہن وغیرہ سے بھى اس پر اطمینان نہیں تو اس کے ساتھ جانا درست نہیں.
مسئلہ. جب کوئى محرم قابل اطمینان ساتھ جانے کے لیے مل جائے تو اب حج کو جانے سے شوہر کا روکنا درست نہیں ہے اگر شوہر روکے بھى تو اس کى بات نہ مانے اور چلى جائے.
مسئلہ. جو لڑکى ابھى جوان نہیں ہوئى لیکن جوانى کے قریب ہو چکى ہے اس کو بھى بغیر شرعى محرم کے جانا درست نہیں اور غیر محرم کے ساتھ جانا بھى درست نہیں.
مسئلہ. جو محرم اس کو حج کرانے کے لیے جائے اس کا سارا خرچ اسى پر واجب ہے کہ جو کچھ خرچ ہو دے.
مسئلہ. اگر سارى عمر ایسا محرم نہ ملا جس کے ساتھ سفر کرے تو حج نہ کرنے کا گناہ نہ ہوگا. لیکن مرتے وقت یہ وصیت کر جانا واجب ہے کہ میرى طرف سے حج کرا دینا. مر جانے کے بعد اس کے وارث اسى کے مال میں سے کسى آدمى کو خرچ دے کر بھیجیں کہ وہ جا کر مردہ کى طرف سے حج کرائے. اس سے اس کے ذمہ کا حج اتر جائے گا اور اس حج کو جو دوسرے کى طرف سے کیا جاتا ہے حج بدل کہتے ہیں.