تحفہ زوجین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اے لقمان! تم اس کو بڑے مزے سے کھارہے ہویہ تو کڑوی زہر ہے کہاجی ہاں ! کڑوی تو ہوا کہ جس ہاتھ سے ہزاروں دفعہ مٹھائی کھائی ہے۔ اگر اس ہاتھ سے ساری عمر میں ایک دفعہ کڑوی چیز ملی تو اس کو کیا منہ پرلاؤں۔ یہ ایسا اصول ہے کہ اگر اس کو میاں بیو ی دونوں یادرکھیں توکبھی لڑائی جھگڑا نہ ہو اور کوئی بدمزگی نہ پیش آئے۔ بیوی یاد کرے کہ میاں نے ہزاروں طرح کے میرے ناز اٹھائے ہیں ایک دفعہ سختی کی توکوئی بات نہیں۔ اور خاوند خیال کرے کہ بیوی ہزاروں قسم کی میری خدمتیں کرتی ہے۔ ایک بات طبیعت کے خلاف ہی سہی۔ حق تعالیٰ نے بھی یہ مضمون قرآن شریف میں ارشادفرمایا ہے جو اگلے باب کے شروع میں آرہا ہے۔ ہندوستان کی عورتوں میں جہاں بے تمیزی وغیرہ ہے وہاں خوبیاں بھی تو ہیں ان کو بھی تودیکھنا چاہیے اور ان خوبیوں کا مقتضی یہ ہے کہ بیویوں پر رحم کرو ان سے بے پروائی نہ کرو۔ بڑی بات یہ ہے کہ وہ تمہاری خادم ہاتھ سے ایک دفعہ تکلیف بھی پہنچ جائے تو اس کو زبان پرنہ لانا چا ہیے۔ (حقوق البیت صفحہ ۴۵)ایک حکایت : ہماری پیرانی صاحبہ (حضرت حاجی امداداللہ صاحب کی اہلیہ) اخیر میں بہت معذور ہوگئی تھیں توحضرت کی ایک خادمہ گھر کے کام کے لیے یہاں سے مکہ معظمہ پہنچ گئیں اور سارا کام اپنے ذمہ لے لیا مگر وہ خادمہ بڑی تند (سخت) مزاج تھیں۔ پیرانی صاحبہ سے لڑا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ میرے گھر میں پیرانی صاحبہ سے کہنے لگیں کہ یہ آپ سے لڑتی ہے اور آپ ان کو کچھ نہیں فرماتیں نہ گھر سے الگ کرتی ہیں تو فرمایا کہ راحت بھی بہت دیتی ہیں۔ اور جو شخص راحت بہت دیتا ہوا س کی بے عنوانیوں (زیادتیوں ) پر صبر نہ کرنا بے مروّتی ہے اس لیے جب مجھ کو ستاتی ہے تو میں اس کی راحتوں کو یادکر کے سب معاف کر دیتی ہوں۔ جب ایک بی بی اتنی سمجھ دار تھیں تو ہم کو مرد ہوکر ضرورفہم سے کام لینا چاہیے اور اپنی بیویوں کی راحت رسانی پر نظر کر کے ان کی بد تمیزیوں کا تحمل کرنا چاہیے۔باب نمبر ۱۵ بداخلاق وبد مزاج عورتوں کی طرف سے سفارش بیوی سے پریشان شوہر کے لیے تسلی کا سامان : مردوں کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس عمدہ پیرایہ (امذاز) میں عورتوں کی سفارش کی ہے۔ فرماتے ہیں : وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شیئًا ویجعل اللّٰہ فیہ خیرًا کثیرًا ’’عورتوں کے ساتھ اچھا بر تاؤ کرو، اور اگر کسی وجہ سے تم کو وہ ناپسند ہوں تو ممکن