تحفہ زوجین - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عورتیں گھر میں حاکم ہیں۔ گھر کی انتظام کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا۔ نگرانی نہ کرنے سے ڈرنا چاہیے۔ (۲) عورتیں اپنے ذمہ مردوں کے یہ حق سمجھتی ہیں کہ کھانا پکا کے دے دیا۔ رات کو بستر لگادیا اور دھوبن کو مردوں کے کپڑے شمار کر کے دے دئیے اور جب لائی تو شمار کرکے لے لیے اور حفاظت سے بکس میں بندکرکے رکھ دئیے۔ اس کے علاوہ کا موں کو عورتیں اپنے ذمہ سمجھتی ہی نہیں بلکہ وہ اپنے ذمہ صرف اتنا سمجھتی ہیں کہ مردوں کو کھلا دیا پلادیا، اور اگر کوئی بچہ ہو تو اس کو ہگا موتا دیا۔ اور یہ بھی اس وقت جب کہ گھر میں بچہ لینے کو کوئی نوکرنہ ہو۔ اور یہ کام انہیں کو خود کرنا پڑے ورنہ ان کو اس کی بھی خبر نہیں ہوتی کہ بچے کہاں ہیں اور کسی طرح ہیں۔ اور اگر گھرمیں کھانا پکانے والی نوکرانی بھی ہوئی توان کو چولہے کی بھی خبر نہیں ہوتی اب نوکرانی سیاہ و سفید کی مالک ہے جو چاہے کرے۔ غرض شوہر کے مال کی حفاظت کا عورتوں کو بالکل خیال نہیں ہوتا۔ (۱)گھر کا کام کرنا بھی عبادت ہے : بعض عورتیں دین داری پرآتی ہیں تویہ طریقہ اختیار کر لیتی ہیں کہ تسبیح اور مصلیٰ لے کر بیٹھ گئیں۔ اور گھر کو ماماؤں (نوکرانیوں ) پر ڈال دیا یہ طریقہ اچھا نہیں۔ کیوں کہ گھر کی نگہبانی اور خاوند کے مال کی حفاظت عورت کے ذمہ فرض ہے جس میں اس صورت سے بہت خلل واقع ہوتا ہے اور جب فرض میں اتنا غلو آگیا تو یہ نفلیں اور تسبیح کیا نفع دیں گی۔ اس لیے دین داری میں اتنا غلو بھی نہ کرو کہ گھر کی خبر ہی نہ لو۔ نماز روزہ اس طرح کرو کہ اس کے ساتھ گھرکے کام کاج میں بھی ثواب ملتا ہے اگر اس نیت سے کرو کہ اللہ تعالیٰ نے گھر کی حفاظت اور خبر گیری میرے ذمہ کی ہے۔ اس لیے حق تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتی ہوں۔ ہاں گھر کے کاموں میں ایسی منہمک نہ ہوکہ دین کوچھوڑ دوبلکہ اعتدال سے کام لو۔ اللہ اللہ توگھر کا کام کرتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے یہ کیا ضروری ہے کہ تسبیح اور مصلیٰ ہی کے ساتھ اللہ اللہ کیا جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ لایزال لسانک رطبامن ذکراللّٰہ یعنی زبان کو ہر وقت خدا کی یا د سے تر رکھنا چاہیے۔ اور ظاہر ہے کہ تسبیح اور مصلیٰ ہر وقت ساتھ نہیں رہ سکتا تو معلوم ہوا کہ ذکراللہ کے لیے کسی قید اور پابندی کی ضرورت نہیں بلکہ ہر حال میں ہوسکتا ہے۔ (۱)غلط فہمی کا ازالہ : بعض عورتیں یہ سن کربڑی خوش ہوں گی کہ یہ توبڑی اچھی بات بتلا ئی گئی نیت کرنے سے دینا بھی دین ہوجاتا ہے بس وہ کفایت کرلیں گی۔ کھانے پکانے پر اور خانہ داری (گھر) کے کام پر، اور سمجھ لیں گی کہ بس دین کا کام توکرہی لیا (یہ بھی توعبادت ہے) اب آگے