حدیث 6. میمون کردى اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں جو صحابى ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسى عورت سے قلیل یا کثیر مقدار مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں عورت کا حق مہر ادا کرنے کى نیت نہیں بلکہ محض دھوکا دیا. پھر بدون ادا کیے ہى مر بھى گیا تو وہ قیامت کے دن زنا کار بن کر خدا کے سامنے جائے گا اور جس شخص نے کسى سے قرض لیا اور اس کے دل میں قرض ادا کرنے کى نیت نہیں بلکہ محض دھوکہ سے اس کا مال لے لیا پھر بدون ادا کیے ہى مر بھى گیا تو وہ خدا تعالى کے سامنے چور بن کر جائے گا. رواہ الطبرانى فى الصغیر والا وسط ورواتہ ثقاۃ
حدیث 7. عمر بن شرید اپنے باپ سے جو صحابى ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہوت والے کا ٹالنا اس کى آبرو اور مال کو حلال کر دیتا ہے. رواہ ابن حبان فى صحیحہ والحاکم وقال صحیح الاسناد
ف یعنى جو شخص قرض ادا کرنے پر قادر ہو اور پھر بھى ادا نہ کرے تو قرض خواہ اس کى آبرو ریزى کر سکتا اور برا بھلا کہہ سکتا اور لوگوں میں اس کى بدمعاملگى مشتہر کر سکتا ہے جس طریقہ سے ممکن ہو ظاہرا یا چھپ کر اپنا حق اس سے وصول کر سکتا ہے.
حدیث 8. ابوذر رضى اللہ عنہ سے مروى ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حق تعالى تین شخصوں سے بہت نفرت کرتے ہیں. ایک بد-ھا زنا کار. دوسرے مفلس تکبر کرنے والا. تیسرے مال دار ظالم جو قرض خواہوں پر ٹال مٹول کر کے ظلم کرتا ہے رواہ ابن خزیمۃ فى صحیحہ و ابوداود والنسائى والترمذى وابن حبان والحاکم وصححاہ