مسئلہ11. سو روپے یا ہزار روپے اپنى حیثیت کے موافق مہر مقرر کیا. پھر شوہر نے اپنى خوشى سے کچھ مہر اور بڑھا دیا اور کہا کہ ہم سو روپے کى جگہ د-یڑھ سو دے دیں گے تو جتنے روپے زیادہ دینے کو کہے اس میں وہ بھى واجب ہو گئے نہ دے گا تو گنہگار ہوگا. اور اگر ویسى تنہائى و یکجائى سے پہلے طلاق ہوگئى تو جس قدر اصل مہر تھا اسى کا آدھا دیا جائے گا جتنا بعد میں بڑھایا تھا اس کو شمار نہ کریں گے. اسى طرح عورت نے اپنى خوشى و رضامندى سے اگر کچھ مہر معاف کر دیا تو جتنا معاف کیا ہے اتنا معاف ہو گیا. اور اگر پورا معاف کر دیا تو پورا مہر معاف ہو گیا. اب اس کے پانے کى مستحق نہیں ہے.
مسئلہ12. اگر شوہر نے کچھ دباؤ د-ال کر دھمکا کر دق کر کے معاف کر لیا تو اس معاف کرانے سے معاف نہیں ہوا. اب بھى اس کے ذمہ ادا کرنا واجب ہے.
مسئلہ13. مہر میں روپیہ پیسہ سونا چاندى کچھ مقرر نہیں کیا بلکہ کوئى گاؤں یا کوئى باغ یا کچھ زمین مقرر ہوئى تو یہ بھى درست ہے. جو باغ وغیرہ مقرر کیا ہے وہى دینا پڑے گا.
مسئلہ14. مہر میں کوئى گھوڑا یا ہاتھى یا اور کوئى جانور مقرر کیا لیکن یہ مقرر نہیں کیا کہ فلانا گھوڑا دوں گا یہ بھى درست ہے. ایک منجہولا گھوڑا جو نہ بہت بڑھیا ہو نہ بہت گھٹیا دیناچاہیے یا اس کى قیمت دیدے. البتہ اگر فقط اتنا ہى کہا کہ ایک جانور دے دوں گا. اور یہ نہیں بتلایا کہ کون سا جانور دوں گا تو یہ مہر مقرر کرنا صحیح نہیں ہوا. مہر مثل دینا پڑے گا.
مسئلہ17. جہاں کہیں پہلى ہى رات کو سب مہر دے دینے کا دستور ہو وہاں اول ہى رات سارا مہر لے لینے کا عورت کو اختیار ہے. اگر اول رات نہ مانگا تو جب مانگے تب مرد کو دینا واجب ہے دیر نہ کر سکتا.