سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
کے دین کی مخالفت چھوڑدیتے ہیں ، نیزیہ کہ ایک سال آپ ہمارادین اختیارکرلیاکریں ، اورپھرایک سال ہم آپ کادین اختیارکرلیاکریں گے،یوں مل جل کررہ لیتے ہیں ‘‘ ان کی اس لغووبیہودہ پیشکش کے جواب میں ’’سورۃ الکافرون ‘‘نازل ہوئی جس میں یہ وضاحت وصراحت کردی گئی کہ ایساممکن نہیں…!! ٭…اسی طرح ایک بارسردارانِ قریش عمارہ بن مغیرہ نامی ایک نہایت خوبرو نوجوان کولئے ہوئے آپﷺکے سرپرست اورچچایعنی ابوطالب کے پاس پہنچے اورانتہائی احمقانہ قسم کی پیشکش کرتے ہوئے کہا: ’’اے ابوطالب!آپ اس خوبرونوجوان کواپنا فرزند بنالیجئے… اوراپنے بھتیجے محمدکوہمارے حوالے کردیجئے‘‘ اس پرابوطالب نے جواب دیا:’’واہ … کیا خوب مشورہ ہے… کہ میں اپنے فرزند کو تو تمہارے حوالے کردوں… تاکہ تم اسے ہلاک کرڈالو… اورتمہارے لڑکے کی پرورش میں اپنے ذمے لے لوں؟‘‘ ابوطالب کی زبانی یہ جواب سن کروہ لوگ کھسیانے ہوکروہاں سے چلتے بنے۔ یوں جب ان کی تمامترعیاریاں بے کاروبے سودثابت ہوئیں… توآخروہ جھنجھلااٹھے… اورتنگ آکرایک روزوہ باقاعدہ وفدکی شکل میںابوطالب کے پاس پہنچے ،جب سخت گرمی پڑرہی تھی،جھلسادینے والی لوکے جھکڑچل رہے تھے،سورج سروں پرآگ برسارہاتھا،گرمی کی شدت کی وجہ سے ہرکوئی اپنے گھرمیں دبکابیٹھاہواتھا… ایسے میں یہ لوگ خلافِ معمول ٗاچانک اوربے وقت ابوطالب کے پاس جاپہنچے ، مزیدیہ کہ ان کے تیوربھی کافی بدلے ہوئے تھے… انداز… اورلب ولہجہ بھی بدلاہواتھا… یہ سب کچھ دیکھتے ہی ابوطالب نے معاملے کی نزاکت کوفوراًہی بھانپ لیا،اوران سے یوں