سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
غزوۂ حُنین : ماہِ رمضان المبارک سن آٹھ ہجری میں ’’فتحِ مکہ‘‘کااہم ترین تاریخی واقعہ پیش آیا،اس کے فوری بعدجب رسول اللہﷺاپنے جاں نثارساتھیوں سمیت ابھی مکہ میں ہی مقیم تھے کہ ماہِ شوال میں ’’غزوۂ حنین‘‘کی نوبت آئی۔ اس غزوے کے موقع پرچونکہ بہت سے عجیب وغریب اوربالکل غیرمتوقع قسم کے حالات وواقعات پیش آئے ٗ اس لئے مفسرین ومحدثین ٗ نیزمؤرخین نے اس واقعے کوبڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے، اس تمامترتفصیل کاخلاصہ یوں بیان کیاجاسکتاہے: ٭…مکہ سے تقریباً ساٹھ میل(سوکلومیٹر) کے فاصلے پرمشہورتاریخی شہر’’طائف‘‘ آباد ہے،اُس دورمیں طائف نیزاس کے مضافات میںچھوٹے بڑے بہت سے مشرک قبائل آبادتھے،جن میں سے بالخصوص ’’ہوازن‘‘اور’’ثقیف‘‘نامی دوقبیلے بہت معروف تھے اور انتہائی طاقتوربھی تھے،فتحِ مکہ کے فوری بعدان قبائل کویہ اندیشہ لاحق ہواکہ ایسانہوکہ فتحِ مکہ کے بعداب مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوجائیں اوران پرحملہ آورہوجائیں… لہٰذااس اندیشے کی وجہ سے ان کے ذمے داراوربااثرقسم کے لوگ باہم مشاورت میں مشغول ہوگئے،اوراس بارے میں خوب غوروفکرکے بعدآخرانہوں نے یہ فیصلہ کیاکہ بجائے اس کے کہ مسلمان خوب بے فکراوربے غم ہوکرہم پرحملے کے منصوبے بناتے رہیں اورپھراپنی پسنداورمرضی کے مطابق جب مناسب سمجھیں ہمارے سروں پرآدھمکیں …قبل اس کے کہ ایسی نوبت آئے ،ہمیں چاہئے کہ ہم خودآگے بڑھ کرمسلمانوںپربھرپورطریقے