سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
اچانک اوربے وقت آمدکی وجہ دریافت کی۔ جس پرانہوں نے کہاکہ :’’اے ابوطالب!ہمارے صبرکاپیمانہ اب لبریزہوچکاہے…ہم اپنے بتوں اوربزرگوں کے خلاف اس طرح اس نئے دین کی نشرواشاعت کوکسی صورت گوارانہیں کرسکتے…اب یاآپ اپنے بھتیجے کولگام دے دیجئے… ورنہ ہم نے ٹھان لی ہے کہ … ہم دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک ضرورہلاک ہوجائے گا‘‘۔ اس دھمکی نے ابوطالب کوپریشان کردیا،کیونکہ انہیں اس بات کاخوب احساس وادراک تھاکہ قریش اپنی بات کے خوب پکے ہوتے ہیں،جوٹھان لیتے ہیں وہ ضرورکرگذرتے ہیں… ! لہٰذاابوطالب نے آپﷺکوبلوایا،آپؐ سوچ میں پڑگئے کہ اتنی تپتی ہوئی دوپہرمیں چچانے بلوایاہے… نہ جانے کیامعاملہ ہے…؟آپؐ چچاکے پاس پہنچے توانہوں نے اپنے لاڈلے بھتیجے کومخاطب کرتے ہوئے بڑے ہی دردانگیزلہجے میں کہا:’’بھتیجے!میرے کندھوں پراتنابوجھ نہ ڈالو…جسے میں برداشت نہ کرسکوں‘‘ اپنے مشفق ومہربان چچاکی زبانی یہ بات سن کرآپؐکویہ خیال گذراکہ شاید اب میرے چچامیری مددوحمایت سے دستبردارہوناچاہتے ہیں…۔ یہ سوچ کرآپؐنے جواب دیا:’’اے میرے چچا!اگریہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پرسورج اوربائیں ہاتھ پرچاندبھی لاکررکھ دیں…تب بھی میں اس کام کونہیں چھوڑسکتا…یہاں تک کہ اللہ خوداس کام کوپوراکردے… یامیں خوداس کوشش میں ہلاک ہوجاؤں…‘‘ آخری جملہ کہتے کہتے آپؐکی آنکھوں میں آنسوآگئے،اورآپ ؐوہاں سے اٹھ کرجانے لگے، ابھی آپؐوہاں سے چلے ہی تھے کہ … لاڈلے بھتیجے کایہ حال ابوطالب سے دیکھانہ گیا،