سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
آپﷺ کی تین صاحبزادیاں (زینب ، رقیہ، ام کلثوم رضوان اللہ علیہن) عین جوانی کی عمرمیں آپؐ کی حیات میں ہی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں،جبکہ چوتھی اورسب سے چھوٹی اورلاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکی وفات آپؐ کی رحلت کے چھ ماہ بعداٹھائیس برس کی عمرمیں ہوئی۔٭…کعبہ کی تعمیرِنومیں شرکت : طوفانِ نوح[علیہ السلام]کے نتیجے میں کعبۃ اللہ کی عمارت کے نشانات مٹ جانے کے بعداس کی تعمیرِنوکامقدس فریضہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے فرزندجلیل حضرت اسماعیل علیہ السلام نے انجام دیاتھا۔لیکن مرورِزمانہ کے ساتھ ساتھ یہ عمارت کمزوراور مخدوش ہوتی چلی گئی۔خصوصاً رسول اللہ ﷺ کی عمرمبارک جب پینتیس برس تھی ٗ یعنی آپؐکی بعثتِ مبارکہ سے پانچ سال قبل مکہ مکرمہ میں ایک زبردست سیلاب آیاجس کے نتیجے میں کافی تباہی ہوئی،اسی سیلاب کی وجہ سے ہی کعبۃ اللہ کی عمارت مزیدخستہ وبوسیدہ ہوگئی،حتیٰ کہ اس کے منہدم ہوجانے کاخطرہ محسوس ہونے لگا۔تب اکابرِ قریش نے غوروفکر اورباہم صلاح ومشورے کے بعدیہ فیصلہ کیاکہ قبل اس کے کہ کسی روزیہ عمارت اچانک گرجائے اورکسی نقصان کاباعث بنے … اسے خودہی منہدم کرکے اس کی تعمیرِنوکی جائے۔ چنانچہ اس منصوبے کے مطابق کعبہ کی قدیم عمارت کومنہدم کرکے اس کی جگہ نئی عمارت تعمیرکی گئی،تعمیرِنوکے اس کام میںسردارانِ قریش کے ہمراہ رسول اللہﷺ نے بھی بنفسِ نفیس شرکت فرمائی،اس موقع پرآپؐ بھاری پتھرودیگرسامانِ تعمیرخوداٹھاتے رہے،جس کی وجہ سے آپؐ کے مبارک کندھے زخمی ہوگئے۔