سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
لَیتَنِي أکُونُ حَیّاً اِذ یُخرِجُکَ قَومُکَ(۱) یعنی:’’کاش میں جوان ہوتا، کاش میں اُس وقت تک زندہ رہتاکہ جب آپؐکی قوم آپؐکوشہرسے نکال دے گی‘‘۔ اس پرآپؐ نے حیرت وتعجب کے عالم میں دریافت فرمایا: أوَ مُخرِجِيَّ ھُم؟ یعنی’’کیایہ میری ہی قوم کے لوگ مجھے میرے شہرسے نکال باہرکریں گے؟‘‘ ۔ ورقہ نے جواب میں کہا: نَعَم یعنی’’ہاں‘‘۔ اورپھرمزیدکہا: لَم یَأتِ رَجُلٌ بِمِثلِ مَا جِئتَ بِہٖ اِلَّا عُودِيَ یعنی’’جب بھی کسی نے ایسی تعلیم پیش کی کہ جیسی تعلیم آپؐ لے کرآئے ہیں ٗ تواس کے ساتھ ہمیشہ دشمنی ہی کی گئی ہے‘‘۔
اورپھرمحض چندروزبعدہی ورقہ بن نوفل کی وفات ہوگئی۔
اس کے بعدجبریل امین بھی جلددوبارہ نہیں آئے، بلکہ کچھ عرصہ گذرگیا،غالباًاس توقف میں حکمت یہ ہوگی کہ رسول اللہﷺ کی طبیعت پرسکون ہوجائے،اورآپؐ کاذہن اس حقیقت کوقبول کرلے۔
اورپھراس توقف کے بعدایک روزجبریل علیہ السلام دوبارہ وحی لے کرآئے،اس باروہ سورۃ المدّثرکی ابتدائی پانچ آیات لے کرآئے تھے: {یَا أیُّھَا المُدَّثِر ، قُم فَأنْذِر ، وَرَبَّکَ فَکَبِّر ، وَثِیَابَکَ فَطَھِّر ، وَالّرُجْزَ فَاھْجُر} (۲) ترجمہ:(اے چادراوڑھنے والے، اٹھ کھڑے ہوجاؤ، اورآگاہ کرو، اوراپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اوراپنے کپڑوں کوپاک رکھو،اورناپاکی سے دوررہو)
اس بارے میں رسول اللہﷺ نے خودیہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: (بَینَا أنَا أمشِي سَمِعْتُ صَوتاً مِنَ السَّمَائِ، فَرَفَعتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَائِ، فَاِذَا المَلَکُ
------------------------------
(۱) بخاری[۶۹۸۲] کتاب التعبیر۔ (۲) المدثر[۱۔۵]