سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
گویا’’ اُمتی‘‘ برائیوں اورنافرمانیوں کے مسلسل ارتکاب کے ذریعے جہنم کی آگ میں جل مرنے پرتُلے ہوئے ہیں…جبکہ رسول اللہﷺانہیں اس برباد ی سے اورجل مرنے سے بچانے کی خاطرشب وروزمحنت وکوشش میں مشغول ومنہمک ہیں۔(۱) اسی طرح رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا:(لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعوَۃٌ مُستَجَابَۃٌ ، فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَہٗ ، وَاِنِّي اِختَبَأتُ دَعْوَتِي شَفَاعَۃً لِأُمَّتِي یَومَ القِیَامَۃِ) (۲) ترجمہـ:’’ہرنبی کوکسی ایک خاص دعاء کاموقع دیاجاتاہے جوقبول کی جاتی ہے،اورہرنبی نے دنیامیں ہی اللہ سے وہ دعاء مانگ لی ہے،جبکہ میں نے اپنی وہ خاص دعاء قیامت کے روزاپنی امت کی شفاعت کیلئے چھپاکررکھ لی ہے‘‘ یعنی ہرنبی کواللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ایک موقع ایسادیاجاتاہے کہ وہ اللہ سے جوچاہیں دعاء مانگ لیں ٗ ان کی وہ دعاء ضرورقبول کی جائیگی…آپؐ نے فرمایاکہ مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ہرنبی نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیامیں ہی اللہ سے اپنے لئے وہ دعاء مانگ لی ہے…لیکن میں نے ابتک وہ دعاء نہیں مانگی ہے … کیونکہ میں نے تواسے روزِقیامت اپنی امت کی شفاعت کیلئے چھپاکرکررکھاہواہے… ------------------------------ (۱)انسان کے لباس میں کچھ حصے ایسے ہواکرتے ہیں جونسبۃًزیادہ موٹے اورمضبوط ہواکرتے ہیں، مثلاًکسی جوڑ پرکہ جہاں کپڑاآکراکٹھاہوتاہے اوربعض اوقات کسی موٹی گرہ کی شکل محسوس ہوتی ہے…یاجولوگ تہبندیالنگی باندھتے ہیں توجس جگہ لنگی کی گرہ ہواکرتی ہے (مَعقِدُ الاِزَارِ أو السَّرَاوِیل)مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کیلئے وہ جگہ مناسب ہواکرتی ہے…لہٰذاآپﷺنے یہی تشبیہ دیتے ہوئے فرمایاکہ’’میں تمہیں تمہارے لباس کی ان گرہوںسے پکڑپکڑکرتمہیں آگ میں جل مرنے سے بچانے کیلئے مسلسل جدوجہدمیں مشغول رہتاہوں …مگرتم لوگ ہوکہ بس جلنے پرہی مُصرہو…‘‘ (۲)بخاری[۶۳۰۴]کتاب الدعوات[۸۰]باب[۱]لکل نبی دعوۃ مستجابۃ۔نیز:مسلم[۱۹۹]کتاب الایمان۔