سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
میں یوںارشادِربانی ہوا: {لَقَد جَائَ کُم رَسُولٌ مِّن أَنفُسِکُم عَزِیزٌ عَلَیہِ مَا عَنِتُّم حَرِیصٌ عَلَیکُم بِالمُؤمِنِینَ رَؤُفٌ رَّحِیمٌ} (۱) ترجمہ:(تمہارے پاس ایک ایسے رسول تشریف لائے ہیں جوتمہاری ہی جنس میں سے ہیں ٗ جنہیں تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہیٗ جوتمہاری منفعت کے بڑے خواہشمندرہتے ہیں ٗ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اورمہربان ہیں)
یقینااس سے یہی حقیقت خوب واضح وثابت ہوجاتی ہے کہ تمام دنیائے انسانیت پر عموماً… جبکہ اپنی امت پرخصوصاً…آپؐ کے بہت زیادہ احسانات ہیں۔
اسی طرح آپﷺکاارشادہے: (اِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اِستَوقَدَ نَاراً ، فَلَمَّا أضَائَ تْ مَا حَولَھَا جَعَلَ الفَرَاشُ یَقَعْنَ فِیھَا ، فَأنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُم عَنِ النَّارِ ، وَأنتُم تُقحَمُونَ فِیھَا) (۲) ترجمہ:’’میری اورتم لوگوں کی مثال اُس شخص کی مانندہے کہ جس نے کوئی آگ جلائی،اورجب وہ آگ خوب روشن ہوگئی توپروانے آآکراس میں گرنے لگے …میںہوں کہ مسلسل تمہارے لباس کی گرہوں سے پکڑپکڑکرتمہیں اس آگ میں گرنے سے بچانے کی کوشش کرتاہوں ، جبکہ تم لوگ ہوکہ اس آگ میں گرتے پڑتے ہو‘‘۔
یعنی جس طرح پروانے آگ پرٹوٹے پڑرہے ہوں ،اورکوئی شخص انہیں موت سے اورجل مرنے سے بچانے کی غرض سے مسلسل انہیں وہاں سے دوررکھنے کیلئے محنت ومشقت اور جدوجہدکئے جارہاہو…لیکن اس کے باوجودپروانے اس آگ میں جل مرنے کیلئے ہرطرف سے ٹوٹے پڑرہے ہوں…یہی حال رسول اللہ ﷺکااپنی امت کے ساتھ ہے،
------------------------------
(۱) التوبہ[۱۲۹] (۲) بخاری [۶۴۸۳]کتاب الرقاق [۸۱]باب [۲۶]الانتہاء عن المعاصی۔