سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
نیزیہ کہ اسی سال حج سے قبل جب رمضان کامبارک مہینہ آیاتھا ٗتب رسول اللہﷺ نے جبریل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دوبار’’مذاکرہ‘‘فرمایاتھا(۱)، جبکہ اس سے قبل ہرسال ماہِ رمضان میں قرآن کریم کایہ’’ مذاکرہ‘‘ ایک بارکرنے کامعمول تھا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺاس سے قبل ہمیشہ ماہِ رمضان میں اپنی مسجدمیں دس روز ’’اعتکاف‘‘ فرمایاکرتے تھے،جبکہ اس سال جب رمضان آیاتھا ٗ تب آپﷺنے خلافِ معمول بیس روزاعتکاف فرمایاتھا،اورجب آپ ﷺکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے اس کی وجہ دریافت کی تھی ٗ تو آپ ﷺنے اپنی لاڈلی بیٹی کومخاطب کرتے ہوئے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی تھی کہ:’’مجھے اب اپنی موت قریب محسوس ہوتی ہے‘‘۔(۲) انہی دنوں آپﷺنے حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کوجب ملکِ یمن کی جانب روانہ فرمایاتوآپؐ اس موقع پرانہیں رخصت کرنے کی غرض سے کچھ دورتک ان کے ہمراہ چلتے رہے…اس موقع پرحضرت معاذؓاپنی سواری پرتھے،جبکہ آپؐ ان کے ہمراہ پیدل ہی چل رہے تھے…اورپھرایک جگہ رُک کرآپؐ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ!شایداب دوبارہ ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوسکے گی…تم جب یمن سے واپس آؤگے توشایدمیری مسجد…اورمیری قبر…کے قریب سے گذروگے…‘‘ اورتب آ پ ﷺکی زبانی یہ بات سن کرمعاذبن جبل رضی اللہ عنہ پھوٹ پھوٹ کررودئیے تھے… اورپھرآپ ﷺنے اپنارُخِ انورمدینہ شہرکی جانب موڑلیاتھا، اوراُس طرف بغوردیکھتے ------------------------------ (۱) یعنی رسول اللہﷺاورجبریل امین علیہ السلام دونوں باہم ایک دوسرے کوقرآن کریم سنایاکرتے تھے(دَورکیاکرتے تھے) (۲) لاأریٰ اِلاحَضَرَأجَليِ(بخاری[۴۹۹۶]کتاب[۶۹] فضائل القرآن،باب[۷]کان جبریل یعرض القرآن علیٰ النبیﷺ)