سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
قبل کبھی حج کے موقع پرچشمِ فلک نے اتنابڑاجمعِ غفیراورانسانوں کابحرِبیکراں نہیں دیکھا تھا…اورتب وہاں میدانِ عرفات میں رسول اللہﷺنے اپنی اونٹنی ’’قصواء‘‘ پر سوار ہوکر حجۃ الوداع کاوہ مشہوراوریادگارترین خطبہ دیا جوتمام دنیائے انسانیت کیلئے ’’دستورالعمل‘‘ کی حیثیت رکھتاہے ،اورجسے بجاطورپر’’انسانی حقوق‘‘کا بہترین منشورکہاجاسکتاہے… چنانچہ اس موقع پرآپؐ نے اس عظیم الشان مجمع کوخطاب کرتے ہوئے فرمایا: أیُّھَا النّاس! اِسمَعُوا قَولِي ، فَانِّي لَاأدرِي ، لَعَلِّي لَا ألقَاکُم بَعدَ عَامِي ھٰذَا المَوقِفِ أبَداً ، یعنی’’لوگو! میری بات غورسے سنو، کیونکہ شایدآج کے بعدآئندہ کبھی اس موقع پر میری تم سے ملاقات نہیں ہوسکے گی…‘‘ اس کے بعدآپؐنے اپنی امت کو’’توحید‘‘کاسبق ایک بارپھریاددلایا…کہ جس پردینِ اسلام کی اصل بنیادہے…اورجوتمام انبیائے کرام علیہم السلام کااصل مقصدِبعثت ہے۔ اس کے علاوہ آپؐنے مزیدارشادفرمایا: اِنَّ دِمَا ئَ کُم وَأموَالَکُم وَأعرَاضَکُم حَرَامٌ عَلَیکُم ، کَحُرمَۃِ یَومِکُم ھٰذا ، فِي بَلَدِکُم ھٰذا ، وَفِي شَھرِکُم ھٰذا ، یعنی’’بے شک تمہاراخون ٗ تمہارامال ٗ تمہاری عزت وآبرو باہم ایک دوسرے کیلئے اسی طرح حرام ہیں کہ جس طرح آج کایہ دن ٗاوریہ شہر ٗ اوریہ مہینہ قابلِ احترام ہے‘‘ یعنی یہ حج کادن ٗیہ مہینہ ٗ اوریہ مقام جہاں حجِ بیت اللہ کے مناسک اداکئے جارہے ہیں …جس طرح یہ سب کچھ واجب الاحترام ہے…اورتم ان تمام چیزوں کی انتہائی عزت وتعظیم کیاکرتے ہو…بعینہٖ اسی طرح اے مسلمانو!آپس میں ایک دوسرے کیلئے تمہاری جان ٗ تمہارامال ٗ اورتمہاری عزت وآبروبھی واجب الاحترام ہے …ایک دوسرے کے خلاف قتل وغارتگری ٗ لوٹ مار ٗ اورعزت وآبروکی پامالی اسی طرح تم سب پرحرام ہے…!