سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
سن ۹ ہجری میں فرضیتِ حج کے اس حکم کے نزول کے بعدکیاجانے والایہ حج نہایت عجیب وغریب نوعیت کاتھا،اس میں ایسے مناظرتھے کہ جونہ کبھی اس سے قبل دیکھے گئے تھے اورنہ ہی کبھی اس کے بعددیکھے گئے…کیونکہ تاریخِ عالَم میں یہ واحدحج تھاکہ جس میںمسلمان اورمشرکین بیک وقت دونوں شریک تھے…دونوں وہاں یکجاتھے…اورایک ساتھ مناسکِ حج کی ادائیگی میں مشغول تھے…البتہ دونوں کے طریقے یقیناجداجداتھے…! ٭…اورپھرجب اگلے سال یعنی سن ۱۰ہجری میں حج کامہینہ قریب آیاتورسول اللہ ﷺ نے خودحج کاارداہ فرمایا،فرضیتِ حج کاحکم نازل ہونے کے بعدیہی آپؐکاپہلاحج تھا اور یہی آخری حج تھاجوکہ تاریخ میں ’’حجۃ الوداع‘‘کے نام سے معروف ہے،مسلمانوں کوجب آپؐکے اس ارادے کی اطلاع ہوئی توقریب ودورہرجگہ سے بڑی تعدادمیں انہوں نے نہایت ذوق وشوق اورخوب جذبہ ولگن کے ساتھ حج کی تیاری شروع کردی،کیونکہ اس سے قبل اسلامی عبادت کے طورپرکبھی حج ادانہیں کیاگیاتھا، مزیدیہ کہ رسول اللہﷺ کی معیت وصحبت میں اس مبارک اوراہم ترین فریضے کی ادائیگی کی تویقیناشان ہی کچھ نرالی تھی… اس کے علاوہ یہ کہ اسلامی فریضے کی حیثیت سے چونکہ حج کایہ پہلاموقع تھا ٗ لہٰذاہرایک کی خواہش تھی کہ رسول اللہﷺکی معیت میں اب اسلامی طریقے کے مطابق حج اداکیاجائے اوراس نادرموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپؐسے براہِ راست ’’مناسکِ حج‘‘کی بھی خوب اچھی طرح عملی تربیت حاصل کرلی جائے۔ چنانچہ دوردرازکے علاقوں سے بھی بہت بڑی تعدادمیں شمعِ توحیدکے پروانے مکہ پہنچنے لگے، اورپھررسول اللہﷺکی صحبت ومعیت میں حج کے دوران جب یہ خوش نصیب افراد میدانِ عرفات میں جمع تھے تب وہاںان کی تعدادایک لاکھ سے تجاوزکرچکی تھی،اس سے