سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
نیزآپﷺنے اس موقع پر اخوت ومساوات ٗتحمل وبرداشت ٗرواداری ٗاوربقائے باہمی کاسبق سکھاتے ہوئے ان سب کویہ حقیقت بھی یاددلائی کہ’’ تمام انسان آدم کی اولادہیں ٗ اورآدم مٹی سے بنے تھے،لہٰذاعزت کامعیارصرف تقویٰ ہے‘‘۔ اس طرح رسول اللہﷺنے اس اہم ترین موقع پراپنے اس یادگارخطبے میں انسانی جان ومال اورعزت وآبرو کی قدروقیمت کوسمجھنے کاسبق سکھایا ٗ اوراس کی حفاظت اوراحترام کی تاکیدوتلقین فرمائی۔ نیزاس موقع پرآپ ﷺنے اپنی امت کومزیدبہت سی وصیتیں اورنصیحتیں فرمائیں، خصوصاًکمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اوران کے حقوق کی حفاظت ورعایت ٗ نیزعورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اور نرمی برتنے کی خاص تاکیدفرمائی۔ مجموعی طورپراس خطبے میںجہاں عقیدہ وایمان کی حفاظت ٗ کتاب وسنت کومضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنے ٗاور’’حقوق اللہ‘‘ کی ادائیگی کی خوب تاکیدوتلقین کی گئی تھی…وہیں ’’حقوق العباد‘‘ کی ادائیگی کابھی بہت زیادہ تاکیدواصرارکے ساتھ حکم دیاگیاتھا…یہی وجہ ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں ٗ بلکہ اغیارمیں سے بھی بڑے بڑے نامی گرامی مفکرین ومصلحین اور دانشوروں کی نظرمیں یہ’’ خطبۂ حجۃ الوداع‘‘محض وعظ ونصیحت ہی نہیں ٗ بلکہ بجاطورپریہ ’’انسانی حقوق‘‘کابہترین ’’منشور‘‘بھی ہے۔ اورپھر اس خطبے کے اختتام پررسول اللہﷺنے اس عظیم الشان مجمع کومخاطب کرتے ہوئے استفسارفرمایا’’ألَا ھَل بَلّغْتُ؟‘‘یعنی’’کیامیں نے تم تک اللہ کادین پہنچادیا؟‘‘اس پر وہسب بیک زبان بولے: نَشْھَدُ بِأنَّکَ بَلَّغتَ ، وَأدَّیتَ ، وَنَصَحْتَ ، یعنی’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کادین پہنچادیا،اورآپ کے ذمے (تبلیغِ دین کی)جو