سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
وسٹ بکس |
|
چنانچہ رسول اللہ ﷺنے اس مقصدکی خاطراب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کومکہ کی جانب روانہ فرمایا، تاکہ وہ ’’امیرالحجاج حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ‘‘سے جاملیں ، اس حکم کی تعمیل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مکہ کی جانب روانہ ہوگئے اورتیزرفتاری کے ساتھ سفرکرتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے جاملے۔
مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعدیوم النحریعنی دس ذوالحجہ کے روزعرفات میں حجاج کے اجتماع کے موقع پرحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺکی طرف سے تاکیدکے مطابق وہ آیات تمام مشرکین کوپڑھ کرسنائیں ٗ نیزاللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ان احکام وہدایات کے بارے میں انہیں مطلع کرتے ہوئے ان کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدات کے خاتمے کااعلان کیا۔(۱)
چونکہ انہی آیات میں ایک حکم یہ بھی تھاکہ ’’مشرکین چونکہ نجس ہیں ٗ لہٰذااس سال کے بعداب آئندہ کوئی مشرک مسجدِحرام کے قریب بھی نہیں جائے گا‘‘۔
چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے وہاں موجودحجاج میں سے مشرکین کویہ حکم بھی پڑھ کرسنایااورانہیں اس بارے میں خبردارکیا…اوریوں مشرکین کیلئے ’’حجِ بیت اللہ‘‘ کایہ آخری سال ثابت ہوا… جس کے بعدان کیلئے ہمیشہ کیلئے ’’حدودِحرم‘‘میں داخلے کی ممانعت ہوگئی۔(۲)
------------------------------
(۱) مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدات مختلف نوعیت کے تھے اوراسی مناسبت سے یہ ’’اعلانِ براء ت‘‘تمام مشرک قبائل کیلئے یکساں نہیں تھا،بلکہ اس میں کچھ تفصیل تھی،اس بارے میں مزیدآگاہی کیلئے سورۃ براء ۃ کی ابتدائی آیات کی تفسیرملاحظہ کی جائے۔
(۲) { یَا أیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اِنّمَا المُشرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقرَبُوا المَسجِدَ الحَرَامَ بَعدَ عَامِھِم ھذَا…} التوبۃ [۲۸]