سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم |
¾وسٹ بکس |
|
مہلک اورخونریزقسم کی جنگ کے موقع پرعین میدانِ جنگ میں بھی صورتِ حال اس قدر نازک اورمشکل نہیں ہوئی ہوگی کہ جس قدرمعاملہ اب جنگ کے خاتمے کے بعداس مالِ غنیمت کی تقسیم کے موقع پرنازک ہوگیا…! ہوایہ کہ ’’مالِ غنیمت‘‘کی تقسیم کے موقع پرجب’’طلقاء‘‘خوب بڑھ چڑھ کرمانگ رہے تھے…توآپؐ نے اپنی بصیرت کی بناء پرانہیں بہت کچھ عطاء فرمادیاتھا، یہ چیزدیکھ کرہوازن وثقیف کے سرداربھی آپہنچے تھے… تب آپﷺنے ان کی ’’تألیفِ قلب‘‘کیلئے انہیں بھی بہت کچھ عطاء فرمادیاتھا…جوکہ دینِ اسلام کی نشرواشاعت کی راہ ہموار کرنے کیلئے یقینا بالکل درست اوربجااقدام تھا…! لیکن اس موقع پرایک بہت بڑااشکال یہ پیداہوگیاکہ یہ تمامترمالِ غنیمت تودراصل خالصۃً رسول اللہﷺکے اپنے ساتھیوں کاجائزاورشرعی حق تھا…جنہوں نے اس سے قبل بھی ہمیشہ ٗنیزاس جنگ کے موقع پربھی بڑی تکلیفیں اورصعوبتیں برداشت کی تھیں…بڑی قربانیاں دی تھیں…لیکن ’’طلقاء‘‘کواورپھر’’ہوازن اورثقیف‘‘والوں کوجب بہت کچھ دے دیاگیاتواس کانتیجہ یہ نکلاکہ یہ پرانے ساتھی جوکہ اصل حقدارتھے ٗمحروم رہ گئے… اب سوال یہ تھاکہ انہیں کس طرح راضی اورمطمئن کیاجائے…؟ رسول اللہﷺکے ان اصلی ساتھیوں میں حضرات مہاجرین بھی شامل تھے اورحضرات انصاربھی،حضرات مہاجرین کاتعلق توچونکہ مکہ شہرسے اورقبیلۂ قریش سے تھا،جبکہ خود رسول اللہ ﷺکاتعلق بھی مکہ شہرسے اورقبیلۂ قریش سے ہی تھا،لہٰذاان میں سے ہرایک کے ساتھ آپؐ کی کسی نہ کسی شکل میں ’’قرابت داری‘‘تھی،اورجہاں ’’قرابت داری‘‘ہواکرتی ہے …وہاں بہت کچھ کہنے سننے کی نوبت نہیں آتی…بلکہ بہت سے نازک اورحساس